حکومت کھاد کمپنیوں کے غیر متوقع منافع واپس لینے کے لیے سیس عائد کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے اور اس مقصد کے تحت حاصل ہونے والی رقم کو کسانوں کے لیے مختص کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سلسلے میں مختلف آپشنز کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی گئی ہے، جس میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، سیکریٹری خزانہ، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور پیٹرولیم سیکٹر ٹاسک فورس کے نیشنل کوآرڈی نیٹر شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فرٹیلائزر انڈسٹری مسابقتی کمیشن پاکستان کی رپورٹ پر برہم کیوں؟

چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے اس معاملے پر تجاویز اُس کمیٹی کے سامنے پیش کیں جس کی سربراہی نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کر رہے ہیں اور جسے گیس کی قیمتوں اور کھاد کے لیے گیس کی الاٹمنٹ کی نگرانی سونپی گئی ہے۔

کمیٹی کے اجلاس میں گیس کی قلت اور اس کے طویل المدتی حل پر بھی غور کیا گیا، وزیر موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ سوئی نیٹ ورک میں گیس کے ذخائر میں کمی کے پیش نظر کھاد کارخانوں کو گیس کی فراہمی کا ازسرنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں: گیس بحران کے باوجود حکومت کا 30 ہزار نئے گھریلو کنکشنز دینے پر غور

ان کے مطابق ویٹڈ ایوریج کاسٹ آف گیس دیرپا حل ہو سکتا ہے اور بلند گیس قیمتوں سے متاثرہ تمام صنعتوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کم حرارت والی یا آف اسپیک گیس کی پروسیسنگ کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت سرمایہ کاری کی تجویز بھی دی۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم نے وضاحت کی کہ مجوزہ گیس الاٹمنٹ 2 برس میں عملی شکل اختیار کرے گی اور اس سے نیٹ ورک سے منسلک 3 کھاد کارخانوں کے مسائل حل ہوں گے۔

مزید پڑھیں: گیس کنکشن پر پابندی ختم، صارفین کو کس بات کا حلف نامہ دینا ہوگا

انہوں نے معاہدوں کے تقدس پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ قیمتوں اور معاہدوں سے متعلق معاملات پر لا ڈویژن سے رائے طلب کی گئی ہے اور ونڈ فال منافع کا معاملہ گیس الاٹمنٹ سے الگ رکھا جانا چاہیے۔

چیئرمین ایف بی آر نے ونڈ فال منافع واپس لینے کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں جن میں ونڈ فال ٹیکس، آئی پی پی ماڈل کے تحت ریٹرن کا تعین، اور ایسکرو اکاؤنٹ کا قیام شامل ہے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ نے قانونی بنیاد پر ’ایگریکلچر ڈیولپمنٹ سیس‘ عائد کرنے کی تجویز دی تاکہ حاصل رقم کسانوں کے لیے مخصوص رکھی جا سکے۔

مزید پڑھیں: 16 اداروں کی بندش یا نجکاری پر غور، اہداف حاصل نہ کرنے والے ادارے بند ہونگے، حکومت

نائب وزیر اعظم نے واضح کیا کہ کم معیار کی گیس کو نیٹ ورک میں شامل کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری درکار ہے اور گیس کی کمی کا حل نئی دریافتوں اور سرمایہ کاری میں ہے۔

دریں اثنا، اقتصادی رابطہ کمیٹی کی سفارشات پر وفاقی کابینہ دسمبر 2025 میں کھاد کارخانوں کے لیے گیس الاٹمنٹ کی منظوری دے چکی ہے، جس کے تحت پیداوار کو مری بیسڈ اسٹینڈ الون گیس سسٹم پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

منصوبے کے تحت فوجی فرٹیلائزر کمپنی، فاطمہ فرٹیلائزر اور ایگری ٹیک کو مخصوص مقدار میں خام اور پروسیسڈ گیس فراہم کی جائے گی، جبکہ متعلقہ کمپنیاں گیس پروسیسنگ اور کمپریشن سہولیات خود نصب کریں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسحاق ڈار ایف بی آر ایگریکلچر سیس راشد محمود لنگڑیال طارق باجوہ علی پرویز ملک کھاد.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار ایف بی ا ر ایگریکلچر سیس راشد محمود لنگڑیال طارق باجوہ علی پرویز ملک کھاد کی تجویز کے لیے ہے اور کے تحت گیس کی

پڑھیں:

بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔

ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی