کوئٹہ، سانحہ ترلائی کیخلاف نماز جمعہ کے بعد احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے سانحہ ترلائی کی شدید مذمت کی اور اسے حکومتی غفلت کا نتیجہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین اور بلوچستان شیعہ کانفرنس کی جانب سے اسلام آباد کی جامعہ مسجد خدیجتہ الکبریٰ میں دہشتگردی کے خلاف آج نماز جمعہ کے بعد احتجاج کیا گیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے دہشتگردی کے خلاف نعرے بازی کی اور واقعہ کے ذمہ داروں کو گرفتار کرنے اور قرار واقعی سزا دلانے کا مطالبہ کیا۔ احتجاج میں مجلس علماء مکتب اہلبیت کے رہنماء علامہ سید ہاشم موسوی، مجلس وحدت مسلمین کے رہنماء علامہ علی حسنین حسینی اور بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر عاشق حسین ہزارہ نے خطاب کیا۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے سانحہ ترلائی کی شدید مذمت کی اور اسے حکومتی غفلت کا نتیجہ قرار دیا۔ مظاہرین نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت جیسے حساس شہر کی حدود میں خودکش حملہ آور کا پہنچ جانا حکام کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ واقعہ میں ملوث مجرموں کی سرپرستی کرنے والوں اور انکے سہولت کاروں کو پکڑے بغیر متاثرین کو انصاف نہیں دلوایا جا سکتا ہے۔ مقررین نے بلوچستان کی حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے صوبے کی مخدوش صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے امام بارگاہوں کی سکیورٹی بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔