Islam Times:
2026-06-02@22:39:01 GMT

جماعت اسلامی کا سندھ اسمبلی کے باہر ہر صورت دھرنے کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT

جماعت اسلامی کا سندھ اسمبلی کے باہر ہر صورت دھرنے کا اعلان

امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ 18 سالہ نااہلی کے خلاف عوامی طاقت سے آواز بلند کی جائے گی اور "جینے دو کراچی مارچ کے بعد اگلا مرحلہ سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج ہوگا، دھرنے کے اعلان سے حکومتی ایوانوں میں بھی کھلبلی مچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے سندھ اسمبلی کے باہر ہر صورت دھرنے کا اعلان کردیا۔ تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی سندھ اسمبلی کے باہر ہر صورت دھرنا دے گی۔ منعم ظفر کا کہنا تھا کہ دھرنا 14 فروری کو شام 4 بجے شروع ہوگا اور اس کا مقصد اہلِ کراچی کے حقوق اور مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج بااختیار میگا سٹی گورنمنٹ کے قیام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں ناکامی پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے لیے بھی کیا جائے گا۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 18 سالہ نااہلی کے خلاف عوامی طاقت سے آواز بلند کی جائے گی اور "جینے دو کراچی مارچ کے بعد اگلا مرحلہ سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج ہوگا، دھرنے کے اعلان سے حکومتی ایوانوں میں بھی کھلبلی مچ گئی ہے۔ منعم ظفر نے حکومت کو خبردار کیا کہ وہ اوچھے ہتھکنڈوں سے باز رہے، دھرنا ہر صورت ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سندھ اسمبلی کے باہر جماعت اسلامی کہا کہ

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو