بانی پی ٹی آئی کو ڈاکٹرز سے چیک کروا کر شفاء اسپتال منتقل کیا جائے، محمود اچکزئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
محمود خان اچکزئی : فائل فوٹو
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ ہمارا سب سے بڑا مطالبہ اور نکتہ بانی پی ٹی آئی کی صحت ہے، بانی پی ٹی آئی کو ڈاکٹرز سے چیک کروا کر شفاء اسپتال منتقل کیا جائے۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے کہا کہ سپریم کورٹ میں جمع رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بینائی 80 فیصد سے زائد ختم ہو گئی ہے، بانی پی ٹی آئی کو ان کی مرضی کے کسی اسپتال میں شفٹ کیا جائے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگر صحت سے متعلق پیشرفت کی جاتی ہے تو یہ دھرنا منتشر ہو جائے گا، اگر ایسا نہ ہوا تو وقت کے ساتھ مزید مطالبے بھی شامل ہوتے چلے جائیں گے، اس حکومت کی اتنی غلطیاں ہیں کہ پھر دھرنے ہی دھرنے ہوں گے، حکومت کو سب معلوم ہے، رانا ثنا اللہ سرکار کی طرف سے جواب دیتے رہے ہیں۔
بانی پی ٹی آئی کی صحت ون پوائنٹ ایجنڈا ہے، حکومتی نمائندے نے وزیراعظم سے مشاورت کے بعد اپوزیشن کو جواب دینے کا کہا۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نہ صرف سابق وزیراعظم بلکہ انسان اور ایک قیدی بھی ہیں، بانی پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہو رہی ہے آپ ان کو نزدیک ترین اسپتال منتقل کر دیں، آپ اس اسپتال کو سب جیل ڈکلیئر کردیں اور انہیں علاج کی سہولت دیں، یہ دس منٹ کی بھی بات نہیں ایک ڈاکٹر جائے چیک اپ ہو اور انہیں شفٹ کر دیا جائے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ دو ہفتے بعد صدر پارلیمنٹ سے خطاب کریں گے، اگر یہی رویہ رہا تو صدر پھر ایوان میں کیسے خطاب کر سکیں گے، آپ قصداً چاہتے ہیں کہ اس پارلیمنٹ میں ہنگامہ ہو، آپ یہی چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کمزور ہو اور یہاں ایوان کام نہ کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی پی ٹی ا ئی نے کہا کہ
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔