وزیراعظم کا متحدہ عرب امارات کے صدر سے رابطہ، باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے فروغ کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف اور متحدہ عرب امارات کے صدر و ابوظہبی کے حکمران شیخ محمد بن زاید النہیان نے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور صدر متحدہ عرب امارات اور ابوظہبی کے حکمران شیخ محمد بن زاید النہیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔
بیان میں کہا گیا کہ خوش گوار اور نہایت گرم جوش ماحول میں ہونے والی اس گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے گزشتہ ماہ اسلام آباد اور رحیم یار خان میں ہونے والی اپنی حالیہ ملاقاتوں کا ذکر کیا، جو متحدہ عرب امارات کے صدر کے پاکستان کے پہلے سرکاری دورے کے موقع پر ہوئی تھیں۔
وزیراعظم نے مشکل حالات میں پاکستان کی مستقل اور غیرمتزلزل حمایت پر متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ تعاون دونوں ممالک کی قیادت اور عوام کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا مظہر ہے۔
مزید پڑھیںامارات کا پاکستان کے 2 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں 2 ماہ توسیع پر اتفاق
دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں قائدین نے باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا اور رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات نے اصولی طور پر پاکستان کے 2 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں 2 ماہ کی توسیع پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
ایک اعلیٰ عہدیدار کی تصدیق کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ اماراتی حکام نے مختصر مدت کے لیے اس ڈپازٹ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ توسیع 6.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: متحدہ عرب امارات کے کے درمیان
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔