بحیرہ عرب میں پاکستان نیوی، پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی، جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈینیشن سینٹر  اور اینٹی نارکوٹکس فورس سندھ  نے مشترکہ طور پر ایک اہم بین الادارہ جاتی کارروائی کے دوران منشیات کی بھاری مقدارقبضے میں لے لی۔

ترجمان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کےمطابق انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر ایک بے ریاست (Stateless) کشتی کو روک کر اس پر سوار ہو کر تلاشی لی گئی۔

تفصیلی تلاش کے دوران کشتی سے 1300 کلوگرام سے زائد چرس اور بڑی مقدار میں غیر قانونی شراب برآمد ہوئی، جو ترسیل کے لیے لے جائی جا رہی تھی۔

اس کامیاب کارروائی کو بروقت انٹیلیجنس شیئرنگ، حقیقی وقت میں مؤثر رابطہ کاری اور شریک اداروں کی مربوط حکمت عملی نے ممکن بنایا۔

ضبط شدہ منشیات و دیگر اشیاء کی مجموعی اسٹریٹ ویلیو 20 ارب پاکستانی روپے سے زائد بتائی جاتی ہے، جو خطے میں سرگرم منشیات اور اسمگلنگ نیٹ ورکس کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

ضبط شدہ سامان مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے باضابطہ طور پر اینٹی نارکوٹکس فورس (سندھ) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

یہ کارروائی پاکستان کے سمندری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کو اجاگر کرتی ہے اور اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ عزم، قومی سمندری حدود کے تحفظ اور علاقائی سلامتی کے فروغ کی توثیق کرتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میری ٹائم

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا