سوئنگ سلطان وسیم اکرم سیالکوٹ اسٹالینز کے صدر مقرر
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز سابق کپتان وسیم اکرم کو پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز سیالکوٹ اسٹالینز کا صدر مقرر کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل کی نئی فرنچائز سیالکوٹ اسٹالینز کا آفیشل لوگو جاری
لاہور میں نجی ہوٹل میں الفا اوزی اسپورٹس کے زیر اہتمام ہونے والی تقریب میں وسیم اکرم کی بطور صدر نامزدگی کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔
اسی موقعے پر سیالکوٹ اسٹیلینز کے آفیشل لوگو کی بھی پہلی مرتبہ رونمائی کی گئی جسے شرکا کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی۔
وسیم اکرم تقریب میں آن لائن شریک ہوئے اور ٹیم کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیے: سابق آسٹریلوی کپتان ٹم پین پی ایس ایل فرنچائز سیالکوٹ اسٹالینز کے ہیڈ کوچ مقرر
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ سیالکوٹ اسٹالینز کو ایک مضبوط، منظم اور کامیاب فرنچائز بنانے کے لیے اپنا تجربہ اور صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔
فرنچائز کا عزمتقریب میں اسٹیلینز کے ہیڈ کوچ ٹیم پین، ٹیم کے شریک مالکان حمزہ مجید اور محمد شاہد بھی موجود تھے۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سیالکوٹ اسٹالینز پی ایس ایل میں جدید رجحانات متعارف کرانے، کرکٹ کے فروغ اور کھیل کے معیار کو مزید بلند کرنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے گی۔
مزید پڑھیں: انتظار ختم، پی ایس ایل کی نئی فرنچائز سیالکوٹ کا مکمل نام سامنے آگیا
پی ایس ایل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمان نصیر بھی تقریب میں شرکت کی۔ اس دوران فرنچائز کے مستقبل کے منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سیالکوٹ اسٹالینز وسیم اکرم وسیم اکرم سیالکوٹ اسٹالینز کے صدر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سیالکوٹ اسٹالینز وسیم اکرم سیالکوٹ اسٹالینز فرنچائز سیالکوٹ پی ایس ایل وسیم اکرم کے لیے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔