ملتان، شیعہ علماء کونسل کے زیراہتمام سانحہ ترلائی کیخلاف احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ اسلام آباد نے صرف پاکستانی قوم کے ہی نہیں بلکہ غیر مسلموں کے دل بھی رنجیدہ کر کے رکھ دیے ہیں اور آج پوری امت مسلمہ سوگوار ہے جس کی وجہ سے درجنوں شہدا کو اپنے پیاروں سے نماز جمعہ کے موقع پر جدا ہونا پڑا، پاکستان کی سلامتی کے ادارے ہمیشہ اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ ملک میں امن و امان قائم رہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ علما کونسل ملتان کے زیراہتمام قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی اپیل پر ملک بھر کی طرح ملتان میں بھی جمعۃ المبارک کے موقع پر ملتان پریس کلب کے سامنے سانحہ ترلائی اسلام آباد کے شہدا سے اظہار یکجہتی کے سلسلے میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، نماز جمعہ کے اجتماعات میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا اور مذمتی قراردادیں منظور کی گئیں۔ اس موقع پر دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو قرار واقعی سزا دینے کے لیے یاداشت پیش کی گئی۔ احتجاجی مظاہرے کی قیادت شیعہ علما کونسل کے رہنمائوں علامہ سید علی سجاد نقوی، علامہ غضنفر علی حیدری، علامہ سید مجاہد عباس گریزی، مجاہد حسین صدیقی نے کی جبکہ احتجاجی مظاہرے میں علامہ سید باقر حسین نقوی، علامہ حسین بخش سروری، بشارت عباس قریشی، انجینیئر سخاوت علی سیال، سید تقی گردیزی، مشتاق حسین، سید انیس حیدر نقوی، وقار نقوی، اعجاز حسین، وسیم عباس، الطاف جعفری، سید علی قاسم، سید علی گیلانی، باقر بلوچ، تاجر رہنما بیر شاہ رخ خان، وسیم احمد فاروقی ودیگر نے شرکت کی۔
اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ اسلام آباد نے صرف پاکستانی قوم کے ہی نہیں بلکہ غیرمسلموں کے دل بھی رنجیدہ کر کے رکھ دیے ہیں اور آج پوری امت مسلمہ سوگوار ہے جس کی وجہ سے درجنوں شہدا کو اپنے پیاروں سے نماز جمعہ کے موقع پر جدا ہونا پڑا، پاکستان کی سلامتی کے ادارے ہمیشہ اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ ملک میں امن و امان قائم رہے لیکن دہشت گردوں کی ایک کاروائی سے اداروں کی تمام محنت رائیگاں ہو جاتی ہے، شیعہ سنی بھائی آپس میں متحد ہیں، پاکستان میں امن و امان اور دہشت گردی کا مکمل طور پر قلع قمع کرنے کے لیے ہم سب متحد ہیں تاکہ ملک امن و امان کا گہوارہ بن سکے، ہم وطن عزیز پاکستان کو کسی صورت بھی دہشت گردی کا کھیل نہیں کھیلنے دیں گے اور ہمیشہ کی طرح اب بھی دہشت گردی کے خاتمے اور قیام امن کے لیے پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ملک میں بیرونی اشاروں پر ہونے والے دہشت گردی اور ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ ہونا انتہائی ضروری ہے جو اپنی مذموم کاروائیوں کی وجہ سے ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے در پے ہیں۔
مقررین نے کہا کہ ہماری قیادت ہمیشہ ملکی سلامتی، بھائی چارے اور رواداری کے لیئے ہمیشہ کوشاں رہتی ہے یہی وجہ کہ پاکستان کی تمام مذہبی جماعتیں متحد ہیں جسے دشمن کے تمام ناپاک عزائم ہمیشہ ناکام ہو جاتے ہیں۔ مقرین نے وفاقی و صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہدا کے لواحقین اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے حقیقی معنوں میں داد رسی کی جائے شیعہ سنی بھائی مشکل کی اس گھڑی میں سانحہ ترلائی اسلام آباد کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔ اس موقع پر علمائے کرام نے شہدا کے درجات کی بلندی، پسماندگان کے لیے صبر جمیل اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کرائی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔