مرمت کے نام پر شہر کو پانی سے محروم کر دینا نااہلی ہے،شاہی سید
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر )عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صوبائی صدر شاہی سید نے شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی طویل بندش اور مرمتی کام میں غیر ضروری تاخیر پر شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرمت کے نام پر پورے شہر کو پانی سے محروم کر دینا نااہلی، ناقص منصوبہ بندی اور عوام دشمن پالیسیوں کا کھلا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی جیسے میگا سٹی میں پانی جیسی بنیادی ضرورت کی فراہمی میں مسلسل تعطل کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ شہری بوند بوند پانی کے لیے ترس رہے ہیں جبکہ متعلقہ ادارے صرف وضاحتوں اور بیانات تک محدود ہیں۔ عملی اقدامات کا فقدان عوام کی مشکلات میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ شاہی سید نے کہا کہ 84 انچ لائن کی مرمت میں سست روی اور غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ اس سنگین صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹینکر مافیا سرگرم ہو چکی ہے اور شہریوں کو مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جو انتظامیہ کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں مطالبہ کیا کہ پانی کی فراہمی کو فوری طور پر بحال اور مرمتی کام کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
محکمہ انہار کے مطابق قادر آباد بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 45 ہزار 234 کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 41 ہزار 415 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جہاں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ اسلام ٹائمز۔ دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کے بعد قادر آباد بیراج پر اونچے جبکہ مرالہ اور خانکی بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ انہار کے مطابق ہیڈ مرالہ پر پانی کی آمد ایک لاکھ 95 ہزار 856 کیوسک جبکہ اخراج ایک لاکھ 60 ہزار 108 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جہاں درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
خانکی بیراج پر پانی کی آمد ایک لاکھ 65 ہزار 438 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 60 ہزار 108 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جہاں نچلے سے درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ محکمہ انہار کے مطابق قادر آباد بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 45 ہزار 234 کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 41 ہزار 415 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جہاں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔