ایران پر دباؤ مزید بڑھانے کیلیے مشرق وسطیٰ میں دنیا کا سب سے بڑا امریکی بیڑہ روانہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سفارتی اور عسکری دباؤ میں غیر معمولی اضافہ کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں دنیا کا سب سے بڑا بحری بیڑہ تعینات کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق شمالی کیرولائنا کے ایک فوجی اڈے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن خطے میں اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر تہران نے جوہری پروگرام پر معاہدے کی جانب سنجیدہ پیش رفت نہ دکھائی تو حالات مزید سخت ہو سکتے ہیں۔
امریکی دفاعی حکام کے مطابق جدید ترین طیارہ بردار بحری جہاز USS Gerald R.
اس سے قبل USS Abraham Lincoln اور اس کے ہمراہ گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز خطے میں موجود ہیں، جس سے امریکی بحری طاقت کی موجودگی مزید مستحکم ہو چکی ہے۔
دوسری جانب خطے کی صورت حال پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایران کو واضح پیغام دینے کے ساتھ ساتھ خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش بھی ہے۔
یہ اعلان اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے فوراً بعد سامنے آیا، جسے سفارتی حلقے اہم اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
علاوہ ازیں خلیجی ممالک نے بھی خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت تک پھیل سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں سفارتی کوششیں تیز ہوں گی، تاہم کشیدگی کے بادل ابھی چھٹتے دکھائی نہیں دیتے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔