گلگت بلتستان میں سی ٹی ڈی یونٹ فعال، خصوصی تھانہ قائم
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
گلگت بلتستان میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے اہم پیش رفت کرتے ہوئے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو باضابطہ طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور گلگت میں خصوصی سی ٹی ڈی پولیس اسٹیشن قائم کر دیا گیا ہے۔
گلگت بلتستان پولیس کے بیان کے مطابق سی ٹی ڈی نے 250 افسران و اہلکاروں کے ساتھ کام شروع کر دیا ہے، جبکہ یونٹ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے رواں سال کے دوران مزید 600 آسامیوں پر بھرتی مکمل کی جائے گی۔ اہلکاروں کی بنیادی تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت میں اضافے کے لیے پنجاب اور خیبر پختونخوا سے معاونت حاصل کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: سی ٹی ڈی کی کارروائی کامیاب ، اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے 6 دہشتگرد ہلاک
ایس ایس پی تنویر الحسن کو سی ٹی ڈی گلگت بلتستان کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ دہشت گردی سے متعلق اب تک درج تمام مقدمات گلگت میں قائم سی ٹی ڈی تھانے کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔ ایس ایس پی کے مطابق سی ٹی ڈی کے چار ونگز ہوں گے جن میں انویسٹی گیشن، انٹیلی جنس اور آپریشنز شامل ہیں، اور ادارہ خطے بھر میں دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی نگرانی کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ضلع دیامر کی تحصیل تانگیر میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کی گاڑی پر ہونے والے حالیہ حملے کا مقدمہ بھی سی ٹی ڈی میں درج کر لیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے گزشتہ برس ستمبر میں گلگت بلتستان میں سی ٹی ڈی کے قیام کی منظوری دی تھی اور 613 نئی آسامیوں کی اجازت دی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پولیس پولیس اسٹیشن سی ٹی ڈی گلگت بلتستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پولیس پولیس اسٹیشن سی ٹی ڈی گلگت بلتستان گلگت بلتستان سی ٹی ڈی کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔