کرکٹ مداحوں کیلیے اچھی خبر: سکندر رضا کا انگلش کاؤنٹی سے معاہدہ ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
زمبابوے کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان اور تجربہ کار آل راؤنڈر سکندر رضا نے رواں سیزن کے لیے انگلینڈ کی معروف کاؤنٹی Worcestershire County Cricket Club سے معاہدہ کر لیا ہے، جس کے بعد وہ وٹیلیٹی بلاسٹ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں ایکشن میں دکھائی دیں گے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق کاؤنٹی کلب کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ رضا کو ایونٹ کے لیے بطور اوورسیز کھلاڑی اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا ہے اور انہیں ٹیم کی بیٹنگ و بولنگ لائن اپ میں کلیدی کردار سونپا جائے گا۔
کلب انتظامیہ نے انہیں مختصر فارمیٹ کا ماہر اور میچ ونر کرکٹر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی شمولیت ٹیم کی کارکردگی میں واضح فرق ڈالے گی۔
یاد رہے کہ سکندر رضا تقریباً دو دہائیوں پر محیط پیشہ ورانہ کیریئر میں دنیا بھر کی نمایاں لیگز میں شرکت کر چکے ہیں۔ وہ انڈین پریمیئر لیگ، کیریبئین پریمیئر لیگ، پاکستان سپر لیگ اور SA20 سمیت دیگر بڑے مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں، جب کہ دی ہنڈرڈ میں بھی شرکت کر کے انگلش کنڈیشنز کا تجربہ حاصل کر چکے ہیں۔
حالیہ عرصے میں سکندر رضا کی قیادت میں زمبابوے نے عالمی سطح پر مضبوط ٹیموں کے خلاف قابل ذکر کارکردگی دکھائی، جس سے ان کی بطور لیڈر ساکھ مزید مستحکم ہوئی ہے۔
کرکٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ وٹیلیٹی بلاسٹ میں ان کی موجودگی نہ صرف ٹیم بلکہ شائقین کے لیے بھی کشش کا باعث بنے گی اور ٹورنامنٹ کی مسابقت میں اضافہ کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔