چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں پرورش پانے والے 5 بچے رشتہ ازدواج میں منسلک
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
لاہور:
چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں پرورش پانے والے 5 بچے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔
نکاح کی تقریب لاہوربیورو میں انجام پائی، جہاں ارسلان شوکت کا نکاح عائشہ خالد سے جب کہ شاہ زیب عظمت کا نکاح آمنہ شہزاد سے ہوا۔ اسی طرح بیورو میں پرورش پانے والی سمیرا عارف کی شادی محمد عمران سے انجام پائی۔
چائلڈپروٹیکشن بیوروکی چیئرپرسن سارہ احمد نے اس موقع پر بتایا کہ یہ دونوں جوڑے 10 سال سے زائد عرصہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں مقیم رہے اور اب ان کی عمریں 20 سال سے زائد ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان بچوں کو اپنے والدین یا قریبی لواحقین کے بارے میں معلومات نہیں ہے۔ بیورو میں قیام کے دوران ان بچوں نے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ مختلف ہنر بھی سیکھے، جس کی بدولت وہ برسر روزگار ہوئے اور باعزت زندگی گزارنے کے قابل بنے۔
چیئرپرسن کے مطابق اس سے قبل بھی بیورو میں پرورش پانے والے 2 لڑکوں اور 2 لڑکیوں کے نکاح کا اہتمام کیا جا چکا ہے۔
تقریب میں ڈائریکٹر جنرل ندیم اختر، ڈائریکٹر پروگرام حسنین خالد، ڈائریکٹر ایڈمن وقار عظیم، بیورو کے عملے اور بچوں نے شرکت کی۔ سارہ احمد نے نئے جوڑوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی آئندہ زندگی کے لیے دعا گو ہیں اور شادی کے انتظامات میں تعاون کرنے والے تمام افراد کی شکر گزار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بیورو میں پرورش پانے
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔