ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی 19 سالہ تاریخ کا ریکارڈ ٹوٹنے کے قریب
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں ایونٹ کی 19 سالہ تاریخ کا ریکارڈ ٹوٹنے کے قریب ہے۔
تفصیلات کے مطابق آج کولمبو کے سنہالیز اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے میچ میں آئرلینڈ نے عمان کے خلاف 235 رنز بنا ڈالے۔
یہ رواں ایونٹ کا سب سے بڑا اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی تاریخ کا دوسرا بڑا مجموعی اسکور ہے۔
Ireland piled on the runs ???? pic.
یہ اس ایونٹ کا پانچواں 200 سے زائد رنز کا مجموعہ بھی ہے۔ اس سے قبل 2007 کے افتتاحی ایڈیشن میں 5 مرتبہ 200 سے زائد رنز بنے تھے۔
اس کے علاوہ 2016 اور 2024 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں چار مرتبہ 200 سے زائد رنز بنے تھے۔
2009، 2012 اور 2021 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں صرف ایک مرتبہ اور 2022 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں 2 مرتبہ یہ سنگ میل عبور ہوپایا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔