اپیسٹین کیس، مغرب میں قانون کی حکمرانی کی سچی تصویر
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: جیل میں ایپسٹین کی پراسرار موت، اس کے سخت نگرانی کے اقدامات اور "اہم دستاویزات" کے غائب ہونے اور اس کی موت سے متعلق دستاویزات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نے عوامی اعتماد کو ایک مہلک دھچکا پہنچایا ہے۔ اس سے ایک ہنر مندانہ طریقہ کار کا پتہ چلتا ہے کہ جب بھی نظام کے بنیادی مفادات کو خطرہ لاحق ہوتا ہے، سچائی کو چھپانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی، یہاں تک کہ یہ ’’بادشاہ کو بچانے کے لیے ایک سپاہی کی قربانی‘‘ کے تلخ مرحلے پر ہی کیوں نہ آئے۔ ظاہر ہے اس میں زیادہ قیمت مظلوموں کے حقوق اور انصاف کی ہے۔ ایپسٹین کیس اب صرف ایک فرد کی برائی کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ یہ ایک کھڑکی بن گیا ہے کہ کس طرح سرمایہ اور طاقت، اور ریاستہائے متحدہ میں نام نہاد "غیر قانونی اشرافیہ" آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ اس ملک میں جب دولت کا ذخیرہ ایک خاص سطح پر پہنچ جاتا ہے تو یہ ممکن ہے کہ ایک ذاتی ڈومین عام قانون اور عوامی اخلاقیات کی پابندیوں سے تقریباً آزاد ہو۔ خصوصی رپورٹ:
اقدار، اخلاق، انسان دوستی،خواتین کے حقوق کے دعویدار مغرب بالخصوص امریکہ میں ایپسٹین کیس نے قانون اور مساوات کے دعوے پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ سی جی ٹی این کے مطابق امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے ایپسٹین کے ساتھ اپنے دیرینہ اور قریبی تعلقات کا اعتراف کیا ہے۔ جو ماضی میں کئی بار جھوٹ بول چکا ہے اور اب اعتراف کر چکا ہے، وہ اب بھی وائٹ ہاؤس کے ذریعے محفوظ ہے اور اپنے عہدے پر برقرار ہے۔ اب، ایپسٹین کیس، جو برسوں سے زیر بحث ہے، اب کوئی سادہ سکینڈل یا مجرمانہ کیس نہیں رہا، بلکہ ایک تیز دھار چاقو بن گیا ہے جس نے امریکی معاشرے میں قانونی بدعنوانی کے پردے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ چونکا دینے والی تفصیلات سے بھرے اس کیس نے امریکہ میں چھپے مراعات یافتہ طبقوں کے نیٹ ورک کا انکشاف کیا ہے اور "قانون کی مکمل حکمرانی" اور "قانون کے سامنے مساوات" کے پرانے افسانوں کو رسوا کر دیا ہے، جن کا امریکہ ہمیشہ دعویٰ کرتا رہا ہے۔
اس کیس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ جسے "قانون کی حکمرانی" کہتا ہے وہ دراصل "دولت کی حکمرانی" اور "طاقت کی حکمرانی" ہے۔ 2008 میں، میامی فیڈرل پراسیکیوٹر کے دفتر اور ایپسٹین کے وکلاء کے درمیان 11 گھنٹے کی بات چیت کے بعد، ایک درخواست کا معاہدہ طے پا گیا جس نے ایپسٹین کو استغاثہ سے استثنیٰ دیا تھا۔ یہ فیصلہ اعلیٰ وفاقی پراسیکیوٹرز نے متاثرین کے علم میں لائے بغیر خفیہ مذاکرات میں کیا۔ یہ نظام میں کوئی بے ترتیب واقعہ نہیں تھا، بلکہ امریکہ میں چھپے ہوئے نظام کے کام کا ناگزیر نتیجہ تھا۔ اگر کوئی جنسی مجرم اپنے جرم کے حتمی ثبوت کے ساتھ اپنی دولت اور وکلاء کی اپنی ٹیم پر بھروسہ کر کے بند دروازوں کے پیچھے نظام انصاف کے ساتھ گفت و شنید کر سکتا ہے اور سخت سزا سے بچ سکتا ہے، تو "عدالتی انصاف" ایک خالی نعرہ بن جاتا ہے۔ اس واقعے نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ میں دو متوازی انصاف کے نظام ہیں، ایک عام لوگوں کو کنٹرول کرنے کے لیے، اور دوسرا ایک خاص طبقے کی خدمت کے لیے جو ان کے خلاف قانونی سزا کے خلاف "فائر وال" بنانے کے لیے بہت زیادہ فیس ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ ایپسٹین نے "نیٹ ورک" بنایا۔ اس نے جو نیٹ ورک تشکیل دیا اس میں سیاسی، مالیاتی، سائنسی اور انٹیلی جنس کے شعبوں میں بہت سی شخصیات شامل تھیں۔ یہ اب مساوی افراد کے درمیان ایک سادہ سماجی کاری نہیں ہے، بلکہ امریکی اشرافیہ کے اندر مفادات کے تبادلے اور باہمی تعاون کا ایک پلیٹ فارم ہے۔ ہارورڈ اور ایم آئی ٹی جیسی یونیورسٹیوں کو خاموش رہنے اور معلومات کو روکنے کے لیے بڑی رقم ادا کرنا، مشترکہ مفادات کا خفیہ معاشرہ بنانے کے لیے نجی جزیرے پر خصوصی تفریح کا استعمال، یہ سب اخلاقیات اور سماجی انصاف کی ایک منظم بدعنوانی کی خصوصیات ہیں۔ ایپسٹین کے جرائم کے سامنے آنے کے بعد بھی بہت سی معروف شخصیات کا اس سے مسلسل تعلق اور اسکینڈل کے بعد اجتماعی خاموشی اس تلخ حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ طاقتور اور دولت مندوں کے حلقوں میں گروہی وفا داری اور مشترکہ مفادات کو برقرار رکھنا سچائی اور سماجی انصاف کے تحفظ سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
جیل میں ایپسٹین کی پراسرار موت، اس کے سخت نگرانی کے اقدامات اور "اہم دستاویزات" کے غائب ہونے اور اس کی موت سے متعلق دستاویزات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نے عوامی اعتماد کو ایک مہلک دھچکا پہنچایا ہے۔ اس سے ایک ہنر مندانہ طریقہ کار کا پتہ چلتا ہے کہ جب بھی نظام کے بنیادی مفادات کو خطرہ لاحق ہوتا ہے، سچائی کو چھپانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی، یہاں تک کہ یہ ’’بادشاہ کو بچانے کے لیے ایک سپاہی کی قربانی‘‘ کے تلخ مرحلے پر ہی کیوں نہ آئے۔ ظاہر ہے اس میں زیادہ قیمت مظلوموں کے حقوق اور انصاف کی ہے۔ ایپسٹین کیس اب صرف ایک فرد کی برائی کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ یہ ایک کھڑکی بن گیا ہے کہ کس طرح سرمایہ اور طاقت، اور ریاستہائے متحدہ میں نام نہاد "غیر قانونی اشرافیہ" آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ اس ملک میں جب دولت کا ذخیرہ ایک خاص سطح پر پہنچ جاتا ہے تو یہ ممکن ہے کہ ایک ذاتی ڈومین عام قانون اور عوامی اخلاقیات کی پابندیوں سے تقریباً آزاد ہو۔ اس کے ساتھ ہی، جیفری ایپسٹین کے ہولناک کیس نے انسانی حقوق کی تعلیم کی دنیا کے حامیوں کے منہ پر سخت طمانچہ مارا ہے۔ جو ملک خود سکینڈلز اور قانونی بدعنوانی سے بھرا ہوا ہو اسے کیا حق ہے کہ وہ دوسرے ممالک میں انسانی حقوق کی حالت اور قانون کی حکمرانی پر تبصرہ کرے؟ ایپسٹین کیس ایک آئینے کی طرح ہے جو امریکہ کی ادارہ جاتی بدعنوانی اور "قانون کی حکمرانی" کے پیچھے کی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قانون کی حکمرانی ایپسٹین کیس امریکہ میں ایپسٹین کی ایپسٹین کے کے ساتھ ہے اور کے لیے دیا ہے
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔