ٹی 20 ورلڈکپ: محسن نقوی اور جے شاہ کے اکٹھے پاک بھارت میچ دیکھنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
امکان ظاہر کیا جا ر ہا ہے کہ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اور چیئرمین آئی سی سی جے شاہ پاکستان اور بھارت کا میچ اکٹھے دیکھیں گے۔ذرائع کے مطابق چیئرمین پی سی بی محسن نقوی بھارت کے خلاف میچ کے لیے سری لنکا جائیں گے اور اس بات کا امکان ہے کہ محسن نقوی اور آئی سی سی چیئرمین جےشاہ اکٹھے پاک بھارت میچ دیکھیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے عہدیداران اور بھارتی بورڈ آفیشلز بھی پاک بھارت میچ میں موجود ہوں گے جبکہ پی سی بی اور بھارتی بورڈ آفیشلز بھی کولمبو میں ایک ہی جگہ موجود ہوں گے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ سری لنکا کرکٹ نے دیگر بورڈز کے عہدیداروں کو بھی پاک بھارت میچ کے لیے مدعو کیا ہے اور اس بات کا امکان ہے کی بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے سربراہ بھی میچ کے دوران موجود ہوں گے۔خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا میچ کل کولمبو میں کھیلا جائے گا، دونوں ٹیمیں اپنے ابتدائی دونوں میچز جیت چکی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاک بھارت میچ اور بھارت محسن نقوی
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :