دھرنے کو بڑھا دیا ہے، جب تک مسئلے کا حل نہیں نکلتا تب تک ہم بیٹھے ہیں: علی امین گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے عمران خان کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے علاج کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس کے لیے دھرنے کو بڑھا دیا ہے جب تک مسئلے کا حل نہین نکلتا تب تک ہم بیٹھے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اسلام آباد میں خیبرپختونخوا ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہمارا سب سے بڑا مطالبہ ایک ہی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا علاج کیا جائے، ہم بانی پی ٹی آئی کے لیے بیٹھے ہیں اور بیٹھے رہیں گے۔
بلال صدیق کمیانہ کی زیرِ صدارت اجلاس میں افسران کو اہم ہدایات
انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دھرنے کو بڑھا بھی دیا ہے، ہمیں بانی پی ٹی آئی کی صحت کے بارے بتایا ہی نہیں گیا جبکہ میڈیا میں ذرائع سے خبر آنے کے بعد ہمیں پتا لگا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پمز کے ڈاکٹر نے بیان بھی دے دیا کہ علاج ہوگیا ہے، یہ منافقت ہے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، سلمان صفدر جیل گئے تب پتا لگا کہ بانی پی ٹی آئی کی صورت حال کافی خراب ہے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جب تک مسئلے کا حل نہیں نکلتا تب تک ہم بیٹھے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج یا فیملی ممبر کی نگرانی میں علاج کروایا جائے۔
آج کے گوشت اور انڈوں کے ریٹس، ہفتہ 14فروری 2026
سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ جو علاج بانی پی ٹی آئی کو چاہیے وہ فراہم کیا جائے۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور بانی پی ٹی آئی بیٹھے ہیں کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔