ایم ڈبلیو ایم بلوچستان کا ہڑتال کے دوران گرفتار کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
اپنے بیان میں مجلس وحدت مسلمین نے آٹھ فروری کی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کے دوران گرفتار ہونیوالے بے گناہ سیاسی کارکنوں اور شہریوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے جاری کردہ بیان میں آٹھ فروری کی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کے دوران گرفتار ہونے والے بے گناہ سیاسی کارکنوں اور شہریوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت غیر جمہوری اقدامات سے صورتحال کو ابتر بنا رہی ہے۔ سیاسی کارکنوں کو جمہوری احتجاج کے دوران گرفتار کرنا قابل مذمت ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے 8 فروری کو ملک گھیر ہڑتال ہوئی، جس میں دیگر علاقوں کی طرح کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں عوام نے احتجاج کیا۔ تاہم اس دوران بلوچستان حکومت اور پولیس کی جانب سے ایک انتہائی منفی رویہ اختیار کیا گیا۔ پولیس نے صوبائی حکومت کی ایما پر بے گناہ سیاسی کارکنوں اور شہریوں کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا اور درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا۔ جن کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ بعض علاقوں میں بلوچستان پولیس نے کارکنوں سے بدتمیزی اور تشدد بھی کیا۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے ان واقعات کا تو نوٹس لے لیا، تاہم بے گناہ سیاسی کارکنوں کی رہائی کے لئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ اس ملک میں پرامن احتجاج کرنا بھی صوبائی حکومت کے نزدیک جرم بن گیا ہے۔ اس طرح کے غیر جمہوری رویہ اور زر و زور کے استعمال سے عوام حکومت کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔ بیان میں کہا گیا کہ مجلس وحدت مسلمین سیاسی و جمہوری جدوجہد پر یقین رکھنے والی جماعت ہے۔ کسی بھی صورت عوام کے حقوق کی پائمالی کو برداشت نہیں کریں گے۔ حکومت نے جن سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا ہے، ان کے خلاف کوئی مقدمات نہیں ہیں۔ نہ ہی انہوں نے کوئی غیر جمہوری اور غیر قانونی سرگرمی سرانجام دی ہے۔ لہٰذا انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بے گناہ سیاسی کارکنوں کے دوران گرفتار رہائی کا مطالبہ کی رہائی کہا گیا
پڑھیں:
رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
رحیم یارخان میں لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد کر لی گئی، ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 19 جولائی کو نوجوان کو طلب کیا تھا جس کے بعد نوجوان لاپتا ہو گيا تھا۔
ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق مقتول نوجوان کے بھائی کی مدعیت میں ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مدعی کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 4 روز قبل بھائی کو طلب کیا اور تشدد کرکے قتل کردیا۔
پولیس نے تفتیش کے بعد گرفتار ملزم ایس ایچ او کی نشان دہی پر مقتول نوجوان کی لاش تھانہ صدر صادق آباد علاقہ رانجھی خان میں گنے کی فصل سے برآمد کر لی۔