بانی پی ٹی آئی طویل عرصہ بعد بیٹوں کی آواز سن کر انتہائی خوش تھے، علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ بیٹوں کی آواز طویل عرصے بعد سن کر عمران خان کو انتہائی خوشی ہوئی۔
ایک بیان میں علیمہ خان نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان کی ہدایت پر بانی پی ٹی آئی کی اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون بات ہوگئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی کی ان کے بیٹوں سے بات کروائی گئی ہے، سپریم کورٹ کے حکم پر بانی پی ٹی آئی کی قاسم اور سلیمان سے بات کروائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں نے بتایا ہے بات چیت تقریباً 20 منٹ تک جاری رہی، صاحبزادوں نے بتایا کہ طویل عرصے کے بعد آواز سن کر والد انتہائی خوش تھے۔
علیمہ خان نے مزید کہا کہ ہمیں بانی پی ٹی آئی کے علاج کے لیے ایک نجی اسپتال منتقلی کا انتظار ہے، ذاتی معالجین کی نگرانی میں ماہر ڈاکٹرز سے فوری علاج کا مطالبہ کرتے ہیں۔
اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ بروقت علاج میں تاخیر سے بانی پی ٹی آئی کی بینائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اس معاملے میں مزید تاخیر ناقابلِ قبول ہے، مستقل نقصان سے بچاؤ کے لیے فوری اسپیشلسٹ کیئر ضروری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی کی علیمہ خان
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔