مہمان نوازی کیا ہوتی ہے، کوئی ہمارے ہر دلعزیز دوست قوی (ذوالقرنین) سے پوچھے۔ جوں ہی پتہ چلا کہ بڑے بھائی کی فیملی امریکا سے کراچی آرہی ہے، لگے گھر کو سجانے سنوارنے۔
جن کمروں میں مہمانوں کا قیام تھا اُنہیں تو کلر کروایا ہی، ساتھ پورے گھر کو رنگوا ڈالا۔ فرنیچر کی حالت کچھ مخدوش محسوس ہوئی تو لگے ہاتھ اُسے بھی بدلوا دیا۔
کمروں میں لگے Air Conditioners اور گھر میں کھڑی گاڑی کی پرفارمنس کچھ مشکوک محسوس ہوئی تو اُسے بھی حوالہ مکینک کردیا گیا۔ یوں تو گھر کے کچن میں کھانے، پینے کی اشیاء مناسب مقدار میں موجود تھیں پھر بھی مہمانوں کی پسندیدگی کا خیال رکھتے ہوئے ضروری انتظامات کر لیے گئے تھے۔
مہمان آئیں اور ’’رت جگے ‘‘ نہ ہوں، ایسا کیسے ممکن تھا، چنانچہ نہ صرف بہترین قسم کے خشک میوہ جات کی وافر مقدار میں خریداری کی گئی تھی بلکہ ماحول کو مزید پُر لطف بنائے جانے کے لیے، (بڑوں کے لیے) غزلوں اور ( چھوٹوں کے لیے ) کارٹون فلموں کی سی ڈیز منگوا لی گئی تھیں۔
غرضیکہ کسی بھی قسم کی کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی تھی۔ پھر مہمان آئے، پورے تیس دن رہے، گھومتے پھرتے، ہنستے مسکراتے، تھوڑا سوتے اور بہت سا جاگتے، ایک مہینہ کیسے گزر گیا، پتہ ہی نہیں چلا۔
پھر وقت رخصت آیا، مہمان جب واپس امریکا جانے لگے تو بہت خوش تھے، بہت مطمئن اور پرُسکون۔ بھلا کیونکر نہ ہوتے، قوی اور اس کے گھر والوں نے مہمان نوازی کی تمام تر ذمے داریوں کو بہ احسن و خوبی نبھایا تھا۔
مہمانوں کو کسی بھی قسم کی تکلیف اور پریشانی نہیں ہونے دی تھی، ہر دم اُن کا بھر پور خیال رکھا تھا۔ یہ سب دیکھ کر دل سے یہی دعا نکلی کہ اے خدا ہمیں بھی بہترین مہمان نوازی کی توفیق عطا فرما۔ (آمین)
’’ حضرات… رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا ہے، کل پہلا روزہ ہوگا‘‘ مساجد سے رویت ہلال کے اعلانات ہو رہے تھے۔ عشاء کی نماز سے واپسی پر اہل محلہ اور گھر والو ں سے مبارکباد کا سلسلہ تھما تو سوچا کچھ دیر قوی کی طرف ہو آیا جائے۔
گھر قریب ہونے کے باوجود کافی دنوں سے ملاقات نہیں ہو پائی تھی، آج موقع تھا کہ ماہ رمضان کی مبارکباد بھی دے دی جاتی اور خیریت بھی دریافت ہو جاتی، بس یہی سوچ کر قدم اُس کے گھرکی طرف بڑھا دیے۔ گھر پہنچنے پر قوی نے پرتپاک استقبال کیا۔
اُس کے چہرے پر آئی رونق دیدنی تھی، صحت بھی پہلے سے بہت بہتر لگ رہی تھی۔ سلام دعا اور حال احوال کے بعد باقاعدہ بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا۔
’’ اور سناؤ قوی ! رمضان میں تو آفس کے اوقات کار کم ہوگئے ہوں گے، اب تو واپسی جلد ہی ہوجایا کرے گی۔‘‘
’’ ٹائمنگ کا تو کچھ خاص پتہ نہیں، کیونکہ میں نے تو آفس سے ایک ماہ کی رخصت لے رکھی ہے۔‘‘
’’ اچھا… وہ کیوں، سب خیریت تو ہے؟‘‘
’’ ہاں سب خیریت ہی ہے۔ صدیقی سچ پوچھو تو مجھ سے روزے رکھ کر آفس نہیں جایا جاتا، عجیب نقاہت سی رہتی ہے، متلی کی کیفیت میں رہتے سارا دن، کسی کام میں دل نہیں لگتا‘‘ (چالیس سال کی عمر میں اچانک رمضان کے موقعے پر پیدا ہوجانے والی یہ کمزوری سمجھ سے بالا تر تھی۔)
’’ لیکن گھر میں رہ کر بھی تو تم بور ہی ہوجاؤ گے‘‘ میں نے بات جاری رکھتے ہو ئے کہا۔
’’ آں… نہیں شاید وقت گزرنے کا اتنا پتہ نہ چلے‘‘
’’ وہ کیسے ؟‘‘ میں نے پرتجسس انداز میں دریافت کیا۔
’’ بھائی ! دن بھر کوئی کام کاج تو ہوگا نہیں، تو سوچا ہے کہ فجر پڑھ کر سو جاؤں گا اور پھر جب شام کو سو کر اُٹھوں گا، تو عصر سے پہلے ظہر کی نماز بھی پڑھ لوں گا۔‘‘
’’کیا مطلب… تم صبح سے شام تک سوتے ہی رہوگے‘‘ میں نے کافی حیرانگی سے پوچھا تھا۔
’’ تو خوا مخواہ جاگ کر کرنا بھی کیا ہے‘‘ جواب انتہائی معصومانہ تھا۔
’’ اور عصر کے بعد کا کیا پروگرام ہے، کیا پھر سوجاؤ گے‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی میرے لہجے میں طنز اُمڈ آیا تھا۔
’’ ارے نہیں یار، عصر سے مغرب کا وقت تو صرف دیکھنے، دیکھنے کا ہوتا ہے، اور پھر بازار جاکر اپنے لیے افطار کا سامان بھی تو لانا ہوتا ہے۔‘‘
’’ کیوں… گھر میں کچھ نہیں بنتا ؟ ‘‘
’’ اب مجھ اکیلے کے لیے بھلا کیا بنے گا بھائی !‘‘
’’ اکیلے کیوں … بھابھی اور بچے بھی تو ہیں‘‘
’’ ارے بھائی … ( وہ چائے کا کپ مجھے تھماتے ہوئے گویا ہوا) تم تو جانتے ہی ہو، بھابھی تمہاری شوگر کی مریضہ ہیں، اس لیے روزہ نہیں رکھتیں، اور بچوں کا تو پوچھو ہی مت ، ہر تین ، چار گھنٹے بعد اگر کھانے کو کچھ نہ ملے تو بس آپے سے ہی باہر ہوجاتے ہیں۔‘‘
’’ تو سمجھاؤ اُنہیں، کچھ احساس دلاؤ۔‘‘
’’ بہت بگڑے ہوئے ہیں، لاکھ سمجھایا، بُجھایا، لیکن مجال ہے جو کچھ سُن لیں، اب تو میں نے کہنا ہی چھوڑ دیا ہے‘‘ قوی نے نہایت صفائی سے اپنا دامن بچایا تھا۔
’’ قوی… میں نے سوچا ہے کہ اس بار تراویح تمہاری طرف والی مسجد میں ادا کی جائیں، اس طرح کچھ واک بھی ہوجائے گی اور واپسی پر ہم ساتھ پان بھی کھا لیا کریں گے۔‘‘
’’ یار صدیق، پان تو میں تمہارے ساتھ ضرور کھاتا، لیکن اب کیا بتاؤں کہ افطار کے بعد ایسا پیٹ پھولتا ہے کہ کہیں آنے جانے کی ہمت باقی نہیں رہتی، دل چاہتا ہے کہ بس لیٹا ہی رہوں۔‘‘
’’ تو پھر عشاء کی نماز اور تراویح ؟‘‘
’’اب ایسی حالت میں تراویح پڑھنا تو ممکن نہیں ہوگا، ہاں! البتہ عشاء کی نماز میں گھر پر ہی ادا کرلوں گا ‘‘ قوی نے قدرے نظریں چُراتے ہوئے اپنی بات مکمل کی تھی۔
رمضان میں ذوالقرنین کے بنائے گئے، اس پروگرام پر حیرت کی جائے یا افسوس ، بس یہی سوچتے ہوئے میں نے اُس سے اجازت چاہی اورگھر واپس آگیا۔
امریکا سے آئی بھائی کی فیملی اور رمضان۔ دو مہمانوں کی مہمان نوازی میں برتی جانے والی یہ واضح تفریق یقینا ایک سوالیہ نشان تھی۔ تیس دنوں بعد خالق کائنات کی جانب سے بھیجے گئے خاص اور اہم مہمان کی بخوشی واپسی اتنی غیر اہم کیوں تھی؟
کیوں دوسرے مہمان کی حرُمت، عزت اور حق ادائیگی کا خیال نہیں رکھا جا رہا تھا؟ یہ سب سوچتے ہوئے پھر دل سے دعا یہ بھی نکلی کہ اے خدا، ہمیں ایسا میزبان بنا دے کہ ہر مہمان کی مہمان نوازی اس طرح کریں کہ سب اپنی واپسی پر ہم سے نہال ہوں۔ (آمین)
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مہمان نوازی کی نماز کے لیے
پڑھیں:
والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔
دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاقکمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے
واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔
نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگنئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔
میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔
الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی’میٹا‘ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔
یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔
’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرولسوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔
یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین