data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260215-8-3
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی حلقہ شاہ فیصل کالونی کچہ قلعہ حیدرآباد کے زیر اہتمام سابق کنٹونمنٹ کونسلر اصغر علی خان یوسف زئی کی رہائشگاہ شاہ فیصل کالونی میں ’’استقبال رمضان‘‘ کے موضوع پر تقریب کا انعقاد ہوا جس سے معروف مذہبی اسکالر پروفیسر ڈاکٹر مجیب اللہ شیخ منصوری نے خصوصی خطاب کیا۔ اس موقع پر سابق کنٹونمنٹ کونسلر اصغر علی خان یوسفزئی، ناظم حلقہ عبدالعظیم صدیقی بھی موجود تھے۔ استقبال رمضان سے خطاب کرتے ہوئے معروف مذہبی اسکالر پروفیسر ڈاکٹر مجیب اللہ شیخ منصوری نے کہا کہ رحمت و مغفرت، عبادت و ریاضت اور نیکیوں کے موسم بہار ’’رمضانُ المبارک‘‘ کی آمد آمد ہے، اللہ کے فضل و کرم سے ایک مرتبہ پھر یہ ماہِ مبارک ہمارے اوپر سایہ فگن ہورہا ہے اورجلد ہی اس کی رحمتوں کی بارش ہماری زندگیوں کو سیراب کرنے کے لیے برس رہی ہونگی، رمضان المبارک، اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اس نعمت خداوندی سے ہمیں بارہا استفادے کا موقع ملا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں اس ماہ مبارک میں جن فیوض و برکات کو حاصل کرنا چاہیے تھا وہ ہم اُس طرح حاصل نہیں کرسکے، یہ خیر خواہی اور غم خواری کا مہینہ ہے۔ ایک ایسا مہینہ، جس میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ یہ مہینہ جہاں انفرادی اصلاح، تزکیہ نفس اور عبادات کا تقاضا کرتا ہے، وہیں خلق خدا سے محبّت، ہم دردی اور خیر خواہی کا بھی متقاضی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قرآن کے پیغام کو عام کیا جائے۔ تلاوتِ قرآن کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ قرآن کے پڑھنے کا حق ادا کیا جائے اور قرآن کا حق یہ ہے کہ اسے سوچ سمجھ کر صحیح مخارج اور اس کے ترجمہ، تشریح کے ساتھ پڑھا جائے اور پھر اس پر عمل کیا جائے اور اس کا ابلاغ کیا جائے، یعنی دوسروں کو بھی پڑھنے اور عمل کی ترغیب دی جائے۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کیا جائے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک