پولیس ہر شہری کو سر کہہ کر مخاطب کرے، وزیراعلیٰ مریم نواز کی پولیس اصلاحات کے لیے 3 ماہ کی ڈیڈ لائن
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پولیس اصلاحات کے لیے 3 ماہ کی ٹائم لائن مقرر کرتے ہوئے جامع پلان طلب کرلیا۔ اجلاس میں تھانوں کے باہر شکایات کے ازالے کے لیے پینک بٹن نصب کرنے، انوسٹی گیشن کی ویڈیو و آڈیو ریکارڈنگ اور ایف آئی آر کی آن لائن ٹریکنگ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔
صوبے بھر میں 14 ہزار باڈی کیم اور 700 پینک بٹن لگائے جائیں گے جبکہ ہر تھانے کے 10 اہلکاروں کو باڈی کیم فراہم کیے جائیں گے۔ گمشدہ شناختی کارڈ اور کاغذات کی ایف آئی آر بھی آن لائن درج ہوسکے گی۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان پولیس میں اصلاحات، سیکیورٹی اور ویلفیئر پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، آئی جی محمد طاہر
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ہر شہری کو ‘سر’ کہہ کر مخاطب کیا جائے اور ناکوں پر بدتمیزی کا کلچر ختم کیا جائے۔ چھوٹی شکایات 2 سے 3 گھنٹوں میں حل کرنے، افسران کو عوامی فیڈ بیک لینے اور ٹریفک کو لین میں چلانے کی بھی ہدایت دی گئی۔ ٹریفک پولیس ون ایپ اور سیف سٹی مانیٹرنگ ایپ کا آغاز بھی کیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں مجموعی جرائم میں 48 فیصد اور بڑے جرائم میں 80 فیصد تک کمی آئی ہے جبکہ 80 منٹ کے رسپانس ٹائم سے منفی فیڈ بیک کم ہوا۔ ہر سال ایک کروڑ 68 لاکھ افراد تھانوں کا رخ کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب پولیس کی افسر عائشہ بٹ نے عالمی ایوارڈ جیت لیا
مریم نواز شریف نے کہا کہ پولیس سے صرف مجرموں کو ڈرنا چاہیے، عوام کو نہیں۔ بچوں اور خواتین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور عوام سے زیادہ کوئی وی آئی پی نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب پولیس پولیس اصلاحات مریم نواز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پنجاب پولیس پولیس اصلاحات مریم نواز مریم نواز کے لیے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔