مصطفیٰ کمال کا لیاقت آباد سے تحریک شروع کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
کراچی:
وفاقی وزیر صحت اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے مرکزی رہنما مصطفیٰ کمال نے پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی صوبائی حکومت کے اقدامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ لیاقت آباد سے تحریک شروع کر رہے ہیں اور اگر اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں ہوئے تو 18 ویں ترمیم کی مخالفت کریں گے۔
وفاقی وزیر صحت اور ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے لیاقت آباد میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم نے اٹھارویں ترمیم کی حمایت کی تھی مگر اختیارات عوام تک نہیں پہنچے، اٹھارویں ترمیم کے وسائل صوبائی حکومت کو مل گئے مگر شہری سندھ کے عوام پر ظلم ہوا۔
مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ اگر اختیارات گلی کوچوں تک منتقل نہیں کیے جائیں تو 18ویں ترمیم قابل قبول نہیں اور ایم کیو ایم پاکستان اس کے خاتمے کا مطالبہ کرے گی، اگر ہماری آئینی ترامیم کی مخالفت کی جائے گی تو ایم کیو ایم بھی اٹھارویں ترمیم کی مخالفت کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ آخر کب تک ہمارے بچے گٹر میں گر کے، شاپنگ سینٹرز میں جل کے اور ڈمپروں کے نیچے کچل کر مرتے رہیں گے۔
وفاقی وزیر نے حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، نواب شاہ اور کراچی کے حلقہ بندیوں کے نظام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے مہاجر ووٹ اور شہری نمائندگی کو نہ صرف محدود کیا گیا بلکہ ہمارے ووٹوں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اب ایم کیو ایم ہر قومیت کی آواز بن چکی ہے، ہر ڈسٹرکٹ میں ایم کیو ایم کا پرچم بلند ہوچکا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہری پانی، بجلی، گیس، روزگار اور تعلیم سمیت متعدد مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، تین کروڑ کی آبادی میں ہر گھر کی شکایت ہے اور حکمران شہریوں کے مسائل پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے اعلان کیا کہ لیاقت آباد سے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جا رہا ہے اور ہر ٹاؤن میں اجتماعات منعقد کیے جائیں گے، جس کے بعد پورے کراچی کا بڑا عوامی احتجاجی جلسہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کا جھنڈا پورے سندھ اور پاکستان میں بلند ہوگا اور حق پرست شہریوں کی آواز ہر جگہ پہنچے گی۔
رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کراچی سے زیادہ سندھ کے غریب ہاریوں پر ظلم ڈھایا ہے، ایم کے ایم پاکستان کراچی سے سندھ کے غریب اور مظلوموں کی جنگ لڑ رہی ہے، سندھ کے شہری پیپلز پارٹی کی طرف سے پھیلائی گئی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل ایم کیو ایم لیاقت آباد نے کہا کہ کمال نے سندھ کے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔