کُردوں اور جولانی باغیوں کے درمیان معاہدہ، 1 دن بھی قائم نہ رہ سکا
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
اپنے ایک بیان میں مظلوم عبدی کا کہنا تھا کہ ابو محمد الجولانی کی سربراہی میں دمشق پر قابض باغی رژیم کو بہت سے موضوعات اور اصطلاحات کے حوالے سے مسائل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ "شام" میں کُرد ملشیاء "سیرین ڈیموکریٹک فورس" کے سربراہ "مظلوم عبدی" نے ایک بار پھر اپنی سرزمین کی خودمختاری کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی عنوان سے کردوں کی مقامی حکومت کے خواہاں ہیں۔ مزید یہ کہ بین الاقوامی فریق، کُرد علاقوں کی خصوصی شناخت کے تحفظ کی حمایت کرتے ہیں۔ دوسری جانب جولانی رژیم کے وزیر خارجہ "اسعد حسن الشیبانی" نے گزشتہ روز کہا کہ شام میں کُردوں نے خود مختاری کے لئے کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت، ایک ایسے متحد اور پیوستہ شام پر یقین رکھتی ہے، جو کُردوں سمیت اپنے تمام شہریوں کی سلامتی و حقوق کو یقینی بنائے۔ واضح رہے کہ مظلوم عبدی نے گزشتہ روز میونخ میں اسعد حسن الشیبانی سے ملاقات کی اور دعویٰ کیا کہ اس اجلاس میں کُرد افواج کو سرکاری فوج کے ڈھانچے میں ضم کرنے کے حوالے سے ٹھوس پیش رفت ہوئی۔ جسے انہوں نے شام کے لئے متحد قومی نقطہ نظر کی جانب ایک قدم قرار دیا۔
قابل غور بات ہے کہ مظلوم عبدی نے مذکورہ بالا خیالات کا اظہار عراق کی فیڈرل گورنمنٹ کے تحت ریاست کُردستان کے صدر "نچیروان بارزانی" سے ملاقات کے بعد کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابو محمد الجولانی کی سربراہی میں دمشق پر قابض باغی رژیم کو بہت سے موضوعات اور اصطلاحات کے حوالے سے مسائل ہیں۔ کُرد ملیشیاء کے کمانڈر نے دعویٰ کیا کہ تمام غیر ملکی فریق، کُرد علاقوں پر حملوں کی ممانعت کرتے ہیں اور کُردوں کی اپنے علاقوں کا انتظام خود چلانے کی حمایت کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مظلوم عبدی انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔