اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکومت نے مقدس مہینے رمضان المبارک کے آغاز سے محض ایک ہفتہ قبل عوام پر مہنگائی کا بڑا جھٹکا دیتے ہوئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق آئندہ 15روز کیلئے پٹرول کی قیمت میں 5روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جسکے بعد اسکی نئی قیمت 258.

17 روپے ہوگئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت میں 7 روپے 32 پیسے فی لیٹر کا بڑا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل 275.70 روپے فی لیٹر کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 16 فروری سے فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔ یہ اضافہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی سفارشات پر حکومت کے 15روزہ ریویو کے بعد کیا گیا ہے۔ اس فیصلے نے سال کے آغاز میں نظر آنے والے قیمتوں کے استحکام کو ختم کر دیا ہے، جب نئے سال پر قیمتوں میں کمی کے بعد نرخوں کو برقرار رکھا گیا تھا۔ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ، زراعت اور بجلی کی پیداواری لاگت بڑھے گی، جسکا براہ راست اثر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر پڑے گا اور عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔رمضان المبارک کے قریب آتے ہی ایندھن کی قیمتوں میں یہ اضافہ صارفین کے بجٹ کو شدید متاثر کریگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عوام پہلے ہی بجلی اور گیس کے مہنگے ٹیرف اور محدود آمدنی سے پریشان ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: قیمتوں میں کی قیمتوں گیا ہے کے بعد

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟