افغانستان میں قید رہنے والے مقامی چرواہوں کی 6 ماہ بعد واپسی، چترال میں خوشی کی لہر دوڑ گئی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
تقریباً 6 ماہ تک افغانستان میں قید رہنے والے 3 مقامی افراد کی بحفاظت واپسی پر چترال کی وادی بمبوریت میں خوشی اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔
اغوا ہونے والے افراد کی شناخت عطا الرحمان، سلیم اللہ اور احتشام الحق کے ناموں سے ہوئی ہے۔ انہیں نصف سال قبل مویشی چراتے ہوئے پاک افغان سرحد سے اغوا کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی سے خطے کو سنگین خطرات لاحق، اقوام متحدہ
ان کی بازیابی کے لیے سینیٹر طلحہ محمود نے کوششیں کیں اور بازیاب ہونے پر خود انہیں ساتھ لے کر وادی پہنچے جہاں مقامی آبادی کی جانب سے ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔
اس موقع پر مسلم اور کالاش برادری کے افراد بڑی تعداد میں موجود تھے، جنہوں نے بازیاب شہریوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ چترال کے عوام پُرامن، مہذب اور تعلیم یافتہ ہیں، اسی لیے انہوں نے اغوا شدگان کی رہائی کو اپنا ذاتی مشن بنایا۔ انہوں نے چترال کی ترقی اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی: پارک سے اغوا ہونے والا 3 سال کا بچہ انس کیسے بازیاب ہوا؟
6 ماہ بعد اپنے پیاروں سے ملنے پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ مقامی رہائشیوں نے سینیٹر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی مزید مؤثر بنانے کا مطالبہ بھی کیا تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اغوا افغانستان بمبوریت چترال کالاش.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اغوا افغانستان بمبوریت چترال کالاش
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی