کراس سبسڈی ختم، صارفین سے بجلی اور گیس کی پوری قیمت وصول کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاور ڈویژن نے مستقبل میں سبسڈی سے متعلق پلان تیار کر لیا۔ مستقبل میں صارفین سے بجلی اور گیس کی پوری قیمت وصول کی جائے گی۔ صرف مستحق بجلی صارفین کو بے نظیر انکم اسپورٹس پروگرام کے تحت سبسڈی دی جائے گی۔
نجی ٹی وی چینل سماء نیوز کے مطابق ذرائع پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ پاور ڈویژن نے مستقبل میں سبسڈی سے متعلق پلان تیار کر لیا، آئی ایم ایف کو حالیہ ٹیرف ری اسٹرکچرنگ ،سبسڈی پر بریفنگ دی جائے گی، مستقبل میں صرف مستحق صارفین کو سبسڈی دی جائے گی۔
بانی پی ٹی آئی کی ایک آنکھ کی بینائی عینک لگا کر70فیصد ہے،اعظم نذیر تارڑ
پاور ڈویژن نے بی آئی ایس پی کے ساتھ مل کر ڈیٹا اکٹھا کرنا شروع کر دیا، کراس سبسڈی یا دیگر صارفین ، شعبے پر اضافی بوجھ نہیں ڈالا جائے گا ، مستحق صارفین کو صرف بجٹڈ سبسڈی دی جائے گی ، دیگر صارفین سے بجلی کی پوری قیمت وصول کی جائے گی۔
ذرائع پاور ڈویژن گیس کے شعبے میں بھی کراس سبسڈی کو ختم کیا جائے گا، گیس شعبے کی کراس سبسڈی کو آئندہ بجٹ میں رکھا جائے گا، گیس شعبے کی 225 ارب روپے کی کراس سبسڈی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تیسرے اقتصادی جائزہ مذاکرات کے لئے عالمی مالیاتی ادارے کا جائزہ مشن 25 فروری کو پاکستان کا دورہ کرے گا اور تقریباً دو ہفتے قیام کرے گا۔
بھارت: شادی میں مجرموں کو مدعو کرنے پر پولیس کانسٹیبل ملازمت سے برطرف
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفدجولائی تادسمبر 2025 کےدوران معاشی کارکردگی اورمقررہ اہداف میں پیشرفت کاجائزہ لے گا،مشن کوٹیکس اصلاحات،توانائی شعبے، مانیٹری پالیسی اور زرمبادلہ کے ذخائر سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پاور ڈویژن کراس سبسڈی دی جائے گی
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔