بچے کی پیدائش پر والد کو چھٹی کیوں نہ دی؟ اسٹیٹ بینک کو 5 لاکھ روپے جرمانہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت (فوسپاہ) نے بچے کی پیدائش پر پیٹرنٹی رخصت نہ دینے پر اسٹیٹ بینک کو 5 لاکھ روپے کے جرمانے کی سزا دی ہے۔
مزید پڑھیں: وفاقی محتسب کے علاقائی دفتر سے آزاد کشمیر کے شہریوں کو کتنا فائدہ ہوگا؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت فوزیہ وقار نے بینک افسر سید باسط علی کو 30 دن کی پیٹرنٹی رخصت نہ دینے کے واقعے پر اسٹیٹ بینک پر جرمانہ عائد کیا۔
محتسب کے فیصلے کے مطابق جرمانے کی 4 لاکھ روپے کی رقم سید باسط علی کو ادا کی جائے گی اور انہیں مکمل تنخواہ کے ساتھ 30 دن کی پیٹرنٹی رخصت بھی فراہم کی جائے گی۔
مزید برآں اسٹیٹ بینک کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ میٹرنٹی اور پیٹرنٹی رخصت ایکٹ 2023 کے تحت اپنی پالیسی وضع کرے۔
فوسپاہ کا کہنا ہے کہ پیٹرنٹی رخصت سے انکار صنفی بنیاد پر ہراسیت کے مترادف ہے، جبکہ میٹرنٹی اور پیٹرنٹی رخصت کی سہولت فراہم نہ کرنا صنفی امتیاز کے زمرے میں آتا ہے۔
’بچوں کی دیکھ بھال صرف خواتین کی ذمہ داری نہیں ہے اور رخصت سے انکار والدین کی مشترکہ ذمہ داری اور بچے کے مفاد کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔‘
مزید پڑھیں: وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کیجانب سے پائیڈ کے وائس چانسلر پر 5 لاکھ روپے جرمانہ، وجہ کیا بنی؟
واضح رہے کہ اس واقعے سے قبل اسٹیٹ بینک نے پالیسی موجود نہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے سید باسط علی کی رخصت کی درخواست مسترد کردی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسٹیٹ بینک بچے کی پیدائش جرمانہ عائد والد کو چھٹی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک بچے کی پیدائش والد کو چھٹی وی نیوز پیٹرنٹی رخصت وفاقی محتسب اسٹیٹ بینک لاکھ روپے
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔