اسلام آباد میں فری وائی فائی جلد فعال کردیاجائےگا، این ٹی سی حکام
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) عوامی مقامات پر مفت وائی فائی منصوبہ تاخیرکا شکار ہو گیا، ڈیڈ لائن کو ڈیڑھ ماہ گزرنے کے بعد بھی اسلام آباد میں مفت انٹرنیٹ فراہمی کا منصوبہ مکمل نہ ہو سکا۔
اسلام آباد میں مفت وائی فائی منصوبے کی تکمیل کیلئے تیس دسمبر دوہزار پچیس کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔ نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کو تیس وائی فائی ہاٹ اسپاٹس قائم کرنے کا ٹاسک سونپا گیا۔ ڈیڈ لائن گزرے ڈیڑھ مہینہ ہو گیا مگر اسلام آباد کو فری وائی فائی سٹی بنانے کے اعلان کو عملی جامہ نہ پہنایا جا سکا۔
ذرائع کے مطابق میٹروبس اسٹیشنز،مارکیٹوں سمیت عوامی مقامات پروائی فائی ہاٹ سپاٹ قائم کئےجائیں گے۔ منصوبے کی عدم تکمیل سے اسلام آباد کو اسمارٹ سٹی میں تبدیل کرنے کامنصوبہ متاثر ہو رہا ہے۔ این ٹی سی حکام نےممتاز نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ اسلام آباد میں فری وائی فائی جلد فعال کردیاجائےگا۔ نیٹ ورک کی تنصیب اور بنیادی انفراسٹرکچر مکمل کیا جا چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسلام ا باد میں وائی فائی
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔