فائل فوٹو۔

وفاقہ وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملک کے ہر ضلع میں کم از کم ایک ایچ آئی وی اسکریننگ اور علاج مرکز قائم کیا جائے۔

مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت ملک میں ایچ آئی وی/ایڈز کی صورتحال پر اسلام آباد میں اجلاس ہوا، جس میں درپیش چیلنجز اور آئندہ کی حکمتِ عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ 

اجلاس میں سینٹرل منیجمنٹ یونٹ کے اعلیٰ حکام اور بین الاقوامی شراکت دار اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ 

وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایچ آئی وی کی روک تھام، بروقت تشخیص اور علاج کی دستیابی کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ 

انھوں نے ہدایت کی کہ ملک کے ہر ضلع میں کم از کم ایک ایچ آئی وی اسکریننگ اور علاج مرکز قائم کیا جائے اور عوام کو اپنے ہی علاقوں میں معیاری علاج کی سہولیات کو یقینی بنائیں۔ 

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بارڈر ہیلتھ سروسز ریگولیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کو مزید موثر بنایا جائے، سرحدوں سے آنے والے ہر فرد کی مناسب اسکریننگ کو یقینی بنایا جائے۔ 

انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں باقاعدہ رپورٹنگ کا نظام وضع کیا جائے، ملک میں ایچ آئی وی سے متاثرہ تمام افراد کی بروقت تشخیص ابھی ممکن نہیں ہو پا رہی۔ اس کے لیے مربوط اور موثر عملی اقدامات ناگزیر ہیں، ایچ آئی وی کے خلاف مؤثر جدوجہد کی بنیاد عوامی آگاہی ہے۔ 

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی اسکریننگ کروائیں، حکومت اس اہم عوامی صحت کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ 

وزارت صحت کے ترجمان کے مطابق تمام شراکت دار اداروں نے وزیرِ صحت کی قیادت میں جاری اقدامات کو سراہا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کمال نے کہا ایچ آئی نے کہا کہ کیا جائے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر