ٹی20 ورلڈ کپ؛ آسٹریلوی ٹیم کیلیے خوشخبری، اہم کھلاڑی اسکواڈ میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
آسٹریلیا نے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے لیے اپنے 15 رکنی اسکواڈ میں انجری کے باعث ٹورنامنٹ سے باہر ہونے والے جوش ہیزل ووڈ کی جگہ سینئر بلے باز اسٹیو اسمتھ کو شامل کر لیا۔
اسمتھ گزشتہ ہفتے سری لنکا پہنچے تھے اور ٹیم کے ساتھ ٹریننگ سیشن میں بھی شامل رہے، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے منظوری کے بعد ان کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔
سین ایبوٹ کو ہیزل ووڈ کے متبادل کے طور پر بلایا گیا تھا، جو ٹورنامنٹ کے موقع پر دستبردار ہو گئے تھے لیکن فاسٹ بولر کو باضابطہ طور پر ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیںپی ایس ایل آکشن میں نظرانداز ہونیوالے مزرابانی نے آسٹریلیا کو دھول چٹا دی
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: سری لنکا کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
آسٹریلیا نے اپنے پہلے دو میچز میں مشکلات کا سامنا کیا جس میں وہ زِمبابوے کے خلاف حیران کن شکست کھا بیٹھا تھا اس لیے اسمتھ کی شمولیت ٹیم کے لیے اہم تصور کی جا رہی تھی۔
سلیکٹر ٹونی ڈوڈی میڈ کا کہنا ہے کہ آئی سی سی قوانین کے مطابق کسی بھی تبدیلی کو میچ سے ایک دن پہلے فعال کرنا ضروری ہے، اس لیے مارش اور اسٹونیس کی فٹنس کے حوالے سے غیریقینی صورتحال کے پیشِ نظر اسمتھ کو اسکواڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔