عرضی میں سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا گیا کہ آئینی عہدیداران کیلئے رہنما خطوط طے کئے جائیں تاکہ کوئی بھی اپنے منصب کا سہارا لے کر فرقہ وارانہ نفرت نہ پھیلا سکے اور کسی طبقے کو نشانہ نہ بنا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے مبینہ متنازع "مِیاں" بیان کے خلاف خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی جانچ اور ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ والی متعدد عرضیوں پر سماعت سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے عرضی گزاروں کو متعلقہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹس کے اختیارات کو کمزور نہ کیا جائے اور اگر عرضی گزار ہائی کورٹ سے ملنے والی راحت سے مطمئن نہ ہوں تو وہ دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ مختلف سرکاری عہدیداروں کے خلاف ہدایات طلب کی گئی ہیں اور یہ تمام معاملات متعلقہ دائرہ اختیار رکھنے والی ہائی کورٹ کے ذریعے مؤثر طور پر نمٹائے جانے چاہییں۔

عدالت نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ ہم کسی رائے کا اظہار کئے بغیر عرضی گزاروں کو متعلقہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی آزادی دیتے ہیں۔ چونکہ متعلقہ حکام نے معاملے کی فوری سماعت کی ضرورت ظاہر کی ہے، اس لئے ہم متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے درخواست کرتے ہیں کہ جلد از جلد سماعت کو یقینی بنایا جائے۔ اس سے قبل جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی، جس میں الزام لگایا گیا کہ آسام کے وزیراعلیٰ نے مسلمانوں کے لئے تضحیک آمیز لفظ استعمال کیا۔ جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی کی جانب سے دائر عرضی میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مِیاں آسام میں مسلمانوں کے لئے توہین آمیز اصطلاح کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور کسی اعلیٰ آئینی عہدے پر فائز شخص کی جانب سے ایسا بیان محض سیاسی بیان بازی یا آزادیٔ اظہار کے دائرے میں نہیں آسکتا۔ تنظیم کے مطابق، ایسے بیانات دانستہ طور پر نفرت پھیلانے، دشمنی پیدا کرنے اور ایک پوری برادری کو بدنام کرنے کی کوشش ہیں۔

عرضی میں سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا گیا کہ آئینی عہدیداران کے لیے رہنما خطوط طے کئے جائیں تاکہ کوئی بھی اپنے منصب کا سہارا لے کر فرقہ وارانہ نفرت نہ پھیلا سکے اور کسی طبقے کو نشانہ نہ بنا سکے۔ درخواست میں 27 جنوری 2026ء کو دی گئی ایک تقریر کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں مبینہ طور پر کہا گیا تھا کہ چار سے پانچ لاکھ "مِیاں" ووٹروں کو ووٹر فہرست سے خارج کیا جائے گا اور ایک مخصوص برادری کے خلاف براہ راست موقف اختیار کیا گیا۔ جمعیت علماء ہند کے مطابق اس نوعیت کے بیانات مساوات، بھائی چارے، سیکولرازم اور انسانی وقار جیسے آئینی اصولوں کے منافی ہیں اور انہیں آزادیٔ اظہار کے نام پر تحفظ نہیں دیا جا سکتا۔ یہ عرضی ایڈووکیٹ فرخ رشید کے ذریعے دائر کی گئی تھی، جبکہ تحریری دلائل سینئر وکیل ایم آر شمشاد نے تیار کیے تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سپریم کورٹ ہائی کورٹ علماء ہند کورٹ سے کیا گیا کے خلاف کرنے کی گیا کہ

پڑھیں:

بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین کی جمعیت الوفاق الوطني الاسلامی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت نے ایک ایسے اقدام کے ذریعے، جسے اس جماعت نے خطرناک اور جبری قرار دیا ہے، جعفری اوقاف ادارے کو تحلیل کرکے اسے ایک ایسے کونسل میں ضم کر دیا ہے جو سیاسی اقتدار کے زیرِ اثر کام کرتی ہے۔ جمعیت الوفاق کے مطابق یہ اقدام شرعی احکام میں مداخلت، آئین کی خلاف ورزی اور ملک میں مذہبی آزادیوں سے متعلق رائج اصولوں اور روایات پر حملہ ہے۔ الوفاق نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ کئی صدیوں کے دوران بحرین یا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس نوعیت کی مداخلت کی مثال نہیں ملتی۔ جماعت کے مطابق حکومت نے علاقائی حالات، کشیدگیوں اور جنگی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعفری مکتبِ فکر کی مذہبی شخصیات، اداروں اور اوقافی املاک پر قبضے اور مداخلت کی راہ اختیار کی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ جمعیت الوفاق نے مزید کہا کہ یہ اقدامات شرعی ضوابط کی کھلی اور ناقابلِ قبول خلاف ورزی ہیں، اور انہیں ایسے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے جن کا مقصد شہریوں کو احتجاج اور مخالفت سے روکنا ہے۔ جمعیت کے مطابق حکومت نے ان غیر قانونی اقدامات کے لیے پہلے ہی ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جو غیر اعلانیہ ہنگامی حالت سے مشابہ تھا اور جس میں سکیورٹی دباؤ کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا گیا تھا۔ 

بیان میں کہا گیا کہ یہ سلسلہ سید محمد الموسوی کی مبینہ طور پر دورانِ حراست شہادت اور ان کے جسدِ خاکی کی حوالگی سے شروع ہوا، جس پر تشدد کے آثار نمایاں تھے۔ اس کے بعد بعض خاندانوں کی شہریت منسوخ کرنے، انہیں جبری ہجرت پر مجبور کرنے، مختلف علاقوں سے درجنوں علماء کی گرفتاری اور ان کی تصاویر کی تشہیر جیسے اقدامات سامنے آئے، جنہیں جمعیت نے انتقامی کارروائیاں قرار دیا۔ اسی طرح متعدد مساجد کو ائمہ جماعت سے محروم کرنے، دینی مدارس، حوزاتِ علمیہ اور مذہبی منبروں کی سرگرمیوں کو محدود یا معطل کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔

جمعیت الوفاق کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ پالیسی دراصل ملک کی دینی اور سماجی ساخت پر حملے، اداروں کی بندش، املاک کی ضبطی اور ان کے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرکے ایک "سکیورٹی اور جابرانہ نظم" نافذ کرنے کی تمہید ہے، جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم ہے اور شرعی، سماجی، قانونی و انسانی اصولوں کی کوئی پاسداری نہیں کرتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فرمان نمبر (31) برائے سال 2026 ایک سیاسی نوعیت کا جبری فیصلہ ہے جو عوامی رضامندی کے بغیر مسلط کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف بحرین کے ایک تاریخی اور اصیل ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ ایک ایسا زبردستی کا تغیر نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو صدیوں پر محیط بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

جمعیت کے مطابق تاریخ اس اقدام کو بحرینی حکومت کی سب سے بڑی غلطیوں میں شمار کرے گی، کیونکہ یہ فطرت، دین، آزادی اور قانون کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ الوفاق نے زور دیا کہ یہ جبری فرمان ہزاروں اوقاف کی خیانت اور غصب کے مترادف ہے، جو مخصوص شرعی عناوین اور شرائط کے تحت وقف کیے گئے تھے اور جن میں سیاسی مداخلت یا ردوبدل کی کوئی گنجائش نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ وقف کا شرعی اور قانونی تشخص کسی حکومتی حکم یا فرمان سے تبدیل نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس سلسلے میں کیے گئے تمام اقدامات باطل اور شرعی و قانونی جواز سے محروم ہیں۔

جمعیت الوفاق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فرمان کو فوری طور پر واپس لے اور آمریت، ہٹ دھرمی اور ایسے منصوبے پر اصرار ترک کرے جو صرف طاقت، خوف اور شرعی احکام کی مخالفت کے سہارے ہی جاری رکھا جا سکتا ہے۔ جمعیت کا مزید کہنا تھا کہ شیعہ اور سنی اوقاف کو ایسے انتظامی ڈھانچے کے تحت لانے کی کوشش، جسے مذہبی حلقے قبول نہیں کرتے، اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے سیاسی نظام کو ازسرِ نو متعین کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ نظام شراکت داری، جوازِ حکمرانی اور قومی ہم آہنگی کی بنیادی خصوصیات سے محروم ہو چکا ہے۔ بیان کے اختتام پر جمعیت الوفاق نے ایک "نئے سماجی معاہدے" کی تشکیل کا مطالبہ کیا، جو عوامی اور قانونی بنیادوں پر استوار ہو، تمام شہریوں اور سماجی طبقات کے حقوق کی ضمانت دے اور ان کے مستقبل، شناخت اور آزادیوں کے حوالے سے اعتماد اور اطمینان کو مضبوط بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ