حب میں اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس کے دوران علی حسن زہری نے کہا کہ اگر ایم پی اے شب چلی بھی جائے تو مشیر بن جاؤنگا۔ بلوچستان میں حکومت پیپلز پارٹی کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے سابق صوبائی وزیر علی حسن زہری کا کہنا ہے کہ اگر ان کی بلوچستان اسمبلی کی رکنیت ختم بھی ہو گئی تو وہ مشیر بن سکتے ہیں۔ بلوچستان میں ان کی اپنی حکومت ہے۔ یہ بات انہوں نے حب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ علی حسن زہری نے کہا کہ اگر ایم پی اے شب چلی بھی جائے تو مشیر بن جاؤں گا۔ بلوچستان میں حکومت پیپلز پارٹی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری بلوچستان سے تمام سیکرٹریز ناراض ہیں۔ یہ خالی میرا مسئلہ نہیں ہے۔ حب انڈسٹری میں کچھ پوسٹیں تھیں۔ میں بلوچستان کے ایماندار چیف سیکرٹری سے پوچھنا چاہتا ہوں، وہ کہاں گئیں۔ انکا کہنا تھا کہ تعلیم اور صحت میری ترجیحات میں شامل ہیں۔ حب کی ترقی میرا وژن ہے۔ عوام کو ان کا حق ضرور ملے گا۔ واضح رہے کہ بی اے پی کے رہنماء صالح بھوتانی کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے علی حسن زہری کی بلوچستان اسمبلی کی رکنیت معطل کر دی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علی حسن زہری

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن