سعودی فوٹوگرافر نے مدینہ منورہ کو نئے زاویے سے پیش کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
سعودی عرب کے فوٹوگرافر شاکر ثمرقندی اپنے منفرد اور ذاتی انداز نظر کے ذریعے مدینہ منورہ کی ایک معاصر اور گہری جھلک پیش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی فلم فیسٹیول 23 سے 29 اپریل تک ظھران میں منعقد ہوگا
عرب نیوز کے مطابق مدینہ میں پیدا ہونے اور وہیں پرورش پانے والے شاکر کا کہنا ہے کہ شہر کی گلیوں، فضا اور روزمرہ زندگی سے قربت نے ان کے فنی وژن کو تشکیل دیا۔
وہ مقدس شہر کو کسی اسٹیج شدہ منظر کے طور پر نہیں بلکہ ’زندہ یادداشت‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے کیمرے کی آنکھ سے سڑکیں، صحن اور عمارتیں ایک ایسی کہانی سناتی ہیں جو شہر کی تہہ در تہہ شناخت کو آشکار کرتی ہے۔
انہوں نے عرب نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ اسلامی طرزِ تعمیر خصوصاً مسجد نبوی سے وابستہ فن تعمیر ان کی بصری دلچسپی کا مرکزی محور رہا ہے کیونکہ اس میں روحانیت اور جمالیات تاریخ کی گہرائیوں سے جڑی ہوئی ہیں۔
شاکر کے مطابق ان کی توجہ کسی بڑے منظر پر نہیں بلکہ ان باریک تفصیلات پر مرکوز ہوتی ہے جو عمارت کی فکر اور حسن کو نمایاں کرتی ہیں۔
مزید پڑھیے: سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا میں فیفا کا پہلا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نامزد
اس انداز سے فن تعمیر ایک زندہ عنصر کے طور پر سامنے آتا ہے جو روشنی اور وقت کے ساتھ تعامل کرتا ہے اور ناظر کو صورت اور معنی کے باہمی تعلق پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ مدینہ کا جغرافیہ بھی ان کے کام میں اہم کردار ادا کرتا ہے جہاں پہاڑ، آتش فشانی میدان، کھیتوں اور کھجور کے باغات کے ساتھ شہری ڈھانچے میں ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہی امتزاج اس بات کو واضح کرتا ہے کہ کسی جگہ کی تشکیل زمین اور انسان کے مسلسل تعامل سے ہوتی ہے۔
شاکر کے بقول مقامی باشندے اکثر ان کی تصاویر دیکھ کر اپنے ہی شہر کو نئے زاویے سے دریافت کرتے ہیں جو انہیں اپنے روزمرہ ماحول پر ازسرِ نو غور کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔
وہ اس وقت مدینہ پر مبنی ایک فوٹو بُک سمیت طویل المدتی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ تیزی سے بدلتے شہری اور سماجی منظرنامے میں بصری دستاویز سازی ایک ثقافتی ذمہ داری بھی ہے۔
ان کے مطابق فوٹوگرافی محض محفوظ کرنے کا عمل نہیں بلکہ روزمرہ کی جزئیات اور جمالیاتی شناخت کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کا ذریعہ ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب میں پاکستانی مٹھائیوں کی دھوم
وہ سمجھتے ہیں کہ مدینہ آج بھی فنکاروں کے لیے بے شمار کہانیاں اور موضوعات اپنے اندر سموئے ہوئے ہے جو حال سے جڑے رہتے ہوئے شہر کی جڑوں کا احترام کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سعودی فوٹوگرافر شاکر ثمرقندی شاکر ثمرقندی مدینہ منورہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شاکر ثمرقندی کرتا ہے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔