data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260217-01-18
غزہ /تل ابیب /واشنگٹن /دمشق /بیروت /ریاض /اسلام آباد / مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل نے مغربی کنارے کو ریاستی ملکیت قرار دینے کی منظوری دیدکی جس کی پاکستان نے شدید مذمت کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے کے وسیع علاقوں کو ریاستی ملکیت قرار دینے کی منظوری دے دی، پاکستان نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے اس فیصلے کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کے اس فیصلے سے اسرائیل مستقبل کی ترقی کے لیے اس علاقے کے وسیع رقبے پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے اور مغربی کنارے میں ’زمین کی ملکیت کے تصفیے کا قانونی عمل دوبارہ شروع ہو جائے گا جو1967ء میں مشرق وسطیٰ کی جنگ کے بعد سے منجمد تھا‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اسرائیل کسی خاص علاقے میں زمین کی رجسٹریشن شروع کرے گا تو زمین پر دعویٰ کرنے والے کسی بھی شخص کو ملکیت ثابت کرنے والی دستاویزات جمع کروانی ہوں گی۔پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان اسرائیلی طاقت کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں کو نام نہاد ریاستی ملکیت میں تبدیل کرنے اور غیرقانونی آبادکاری کی سرگرمیوں کو وسعت دینے کی تازہ ترین کوشش کی شدید مذمت کرتا ہے۔فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے دفتر نے ایک بیان میں اس فیصلے کو ایک سنگین پیش رفت اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا، جو ’عملی طور پر الحاق‘ کے مترادف ہے، صدارتی دفتر نے بین الاقوامی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور امریکا سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔ اردن کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں نبھائے اوراسرائیل کو اس کی خطرناک پیش رفت کو روکنے پر مجبور کرے۔قطر کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ اسرائیل کے فیصلے کو فلسطینی عوام کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کے اس کے غیر قانونی منصوبوں کی توسیع سمجھتی ہے۔ فلسطینی شہریوں کو نجی طور پر اسرائیلی شہریوں کو زمین فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہے، حالاں کہ گذشتہ ہفتے اعلان کردہ اقدامات کا مقصد اسے کالعدم کرنا ہے۔ عرب میڈیا الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی این جی او ہتزلخا کی جانب سے اسرائیل کے فریڈم آف انفارمیشن قانون کے تحت حاصل کی گئی معلومات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج میں 50 ہزار سے زاید ایسے اہلکار ہیں جن کے پاس اسرائیلی شہریت کے علاوہ کسی اور ملک کی شہریت بھی ہے، ان میں اکثریت امریکی اور یورپی پاسپورٹ رکھنے والوں کی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق برطانیہ، جرمنی، فرانس، بیلجیئم اور دیگر ممالک میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی فوج میں شامل غیر ملکی شہریوں کے خلاف مقدمات دائر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، کچھ ممالک میں ابتدائی تحقیقات بھی شروع ہو چکی ہیں تاہم تاحال کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے قریبی معاون نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے پاس اسلحہ ڈالنے کے لیے 60 دن ہیں بصورت دیگر اسرائیلی فوج کارروائی مکمل کرے گی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا انکشاف اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے قریبی معاون اور کابینہ سیکرٹری یوسی فوکس نے حالیہ انٹرویو میں کیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ 60 روز کی یہ مہلت بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی درخواست پر دی جا رہی ہے اور اسرائیل نے امریکی درخواست کا احترام کیا ہے۔ یوسی فوکس نے کہا کہ اس عرصے میں حماس کو تمام اسلحہ، حتیٰ کہ رائفلیں اور اے کے-47 بھی مکمل طور پر اسرائیل کے حوالے کرنا ہوں گی۔اسرائیلی وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے مزید کہا کہ اسرائیل اس عمل کا جائزہ لے گا اور اگر یہ مؤثر ثابت ہوا تو بہتر ورنہ فوج کو اپنا مشن مکمل کرنا پڑے گا۔ سعودی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کے بعض حصوں پر کنٹرول سنبھالنے کا فیصلہ امن اور استحکام کے حصول کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں سعودی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب اسرائیلی حکام کے اس فیصلے کی مذمت کرتا ہے ۔ فلسطینی اتھارٹی، مصر اور قطر نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے جائدادوں کے حوالے سے نئے اقدامات کی منظوری کی شدید مذمت کی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول کو مزید مضبوط بنانا ہے، جس سے اس مقبوضہ خطے کو با ضابطہ طور پر اسرائیل میں ضم کیے جانے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں اور غزہ پر تازہ حملوں میں مزید11 فلسطینی شہید ہوگئے ۔ فلسطین انفارمیشن سینٹر “معطی’’ نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے میں 22 مزاحمتی کارروائیاں ریکارڈ کی ہیں، جن میں اسرائیلی دشمن کے ساتھ جھڑپیں، سنگ باری، آباد کاروں کا مقابلہ اور نائٹ کنفیوژن کی سرگرمیاں شامل ہیں۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ایک اسرائیلی فوجی زخمی ہوا۔ لبنان کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ملک کے مشرق میں شامی سرحد کے قریب ایک اسرائیلی فضائی حملے میں 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے فلسطینی عسکری تنظیم اسلامی جہاد کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی افواج نے پیر کے روز مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں بغیر لائسنس تعمیرات کا بہانہ بنا کر 60 گھروں اور تجارتی تنصیبات میں تعمیراتی کام روکنے اور انہیں مسمار کرنے کے نوٹس جاری کیے ہیں۔اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ بیت المقدس میں قابض اسرائیلی بلدیہ کی حدود کو نام نہاد گرین لائن سے آگے تک وسعت دینا ایک انتہائی خطرناک اقدام اور ایسی جارحانہ مثال ہے جو 1967ء کے نکسہ کے بعد سے اب تک دیکھنے میں نہیں آئی‘ یہ اسرائیل کی جانب سے بیت المقدس پر مکمل الحاق اور جبری خودمختاری مسلط کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ حماس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ اقدام عناتا قصبہ میں 40 گھروں کو مسمار کرنے کے نوٹس جاری کرنے کے ساتھ کیا گیا ہے، جبکہ اس کے علاوہ روزانہ کی بنیاد پر درجنوں ایسے نوٹس دیے جا رہے ہیں۔ یہ اس منظم پالیسی کا تسلسل ہے جس کا مقصد بیت المقدس کے گرد و نواح سے ہمارے عوام کو بے دخل کرنا اور شہر کو اس کے اصل باشندوں سے خالی کرانا ہے۔ یہ قابض اسرائیل کی فاشسٹ حکومت کے زیر قیادت اس نوآبادیاتی منصوبے کا حصہ ہے جس میں مقامی آبادی کو ہٹا کر غاصبوں کو بسایا جا رہا ہے۔اسرائیلی حکام نے ماہِ صیام کی آمد سے قبل اشتعال انگیزی میں اضافہ کرتے ہوئے متعدد فلسطینیوں کو مسجد اقصٰی سے بے دخل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔امریکا نے شام سے 5 ہزار 700 سے زاید مشتبہ داعش (آئی ایس آئی ایل) قیدیوں کو عراق منتقل کردیا ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ 23 روزہ مشن کا آغاز 21 جنوری کو ہوا، جس کے دوران شام کی حراستی تنصیبات سے 5 ہزار 700 سے زاید بالغ مرد داعش جنگجوؤں کو عراقی حکام کے حوالے کیا گیا۔ آپریشن 12 فروری کو شمال مشرقی شام سے عراق تک رات کی پرواز کے ساتھ مکمل ہوا۔ عراق کے نیشنل سینٹر فار انٹرنیشنل جوڈیشل کوآپریشن کے مطابق 5 ہزار 704 قیدی عراق پہنچے ہیں، جن میں 3 ہزار 543 شامی، 467 عراقی اور 710 دیگر عرب ممالک کے شہری شامل ہیں، جبکہ 980 سے زاید افراد یورپ، ایشیا، آسٹریلیا اور امریکا سے تعلق رکھتے ہیں۔

غزہ: اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن ہوچکی ہیں

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ریاستی ملکیت اسرائیلی فوج کے مطابق اس اسرائیل کی پر اسرائیل بیت المقدس کی جانب سے کی منظوری اس فیصلے دینے کی کیا گیا کرنے کے سے زاید گیا ہے نے کہا کہا کہ کیا ہے

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم