ڈیل اور ڈھیل کی باتیں قیاس آرائیاں، عمران خان کی صحت پر سیاست نہیں ہونی چاہیے: عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
عطا تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ کسی بھی ڈیل کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ کوئی ڈیل ہوئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی ڈھیل دی گئی ہے، یہ سب محض قیاس آرائیاں ہیں۔
لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھ کی تکلیف کو سوشل میڈیا پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق حکومت کی ذمہ داری تھی کہ انہیں مناسب طبی سہولت فراہم کی جائے، جو فراہم کی گئی، اور اب ان کی صحت بہتر ہے جبکہ متعلقہ مسئلہ بھی حل ہو چکا ہے۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ طبی ماہرین نے عمران خان کا معائنہ کیا اور اس حوالے سے ان کی جماعت کے رہنماؤں کو بریفنگ بھی دی گئی۔ انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ صحت جیسے حساس معاملے پر سیاست نہ کی جائے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق حکومت نے کوئی مطالبہ پورا نہیں کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ