سریم کورٹ میںسزائے موت عمر قید کی اپیلیں 45 روز میں نمٹانے کا ہدف
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) سپریم کورٹ نے سزائے موت اور عمر قید کی اپیلیں45 دنوں میں نمٹانے کا ہدف مقرر کر دیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی قیادت میں اکتوبر2024 ء سے فوجداری مقدمات کی مجموعی زیر التوا تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ زیر التوا مقدمات کی تعداد 19 ہزار 549 سے کم ہو کر12 ہزار705 رہ گئی ہے9 تا14 فروری2026 ء کے دوران سزائے موت اور عمر قید سے متعلق354 فوجداری مقدمات نمٹائے گئے۔ اسی ہفتے ان نوعیت کے131 نئے مقدمات دائر ہوئے۔ یوں ہفتہ وار بنیاد پر نمٹائے گئے مقدمات کی شرح دائر ہونے والے مقدمات کے مقابلے میں تقریباً270 فیصد زیادہ رہی۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جنوری تک کے تمام زیر التوا سزائے موت کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے مخصوص بنچز تشکیل دئیے گئے ہیں۔ جبکہ اصلاحاتی گروپس اور عدالتی ٹیمیں باہمی رابطے کے ساتھ اہداف کے حصول کے لیے سرگرم ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے زیر سماعت قیدیوں سے تعلق جیل پٹیشنز کو منظم اور تیز رفتار بنانے کی بھی ہدایات جاری کی ہیں۔ اعلامیے کے مطابق جیل پٹیشنز کی دائرگی سے لے کر فیصلے تک واضح اور قابلِ پیش گوئی ٹائم لائن متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے فوجداری مقدمات میں جمود کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی نظام میں بہتری اور بروقت انصاف کی فراہمی اولین ترجیح رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔