محسن نقوی کی پس پردہ کوششوں سے عمران خان کے طبی معائنے کیلئے حکومتی و پی ٹی آئی رابطے ممکن
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی خاموش پس پردہ کوششوں کے نتیجے میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھوں کے معائنے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کیلئے رابطے ممکن ہوئے۔
ذرائع کے مطابق یہ عمل علیمہ خان کے بدلتے موقف کے باعث متعدد بار تعطل کا شکار بھی رہا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محسن نقوی نے اس وقت دونوں جانب رابطے کا خلا پُر کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا جب کوئی باضابطہ رابطہ موجود نہیں تھا۔ مفاہمت کے تحت حکومت نے کئی ڈاکٹروں پر مشتمل ایک آزاد میڈیکل بورڈ تشکیل دینے پر آمادگی ظاہر کی جبکہ پی ٹی آئی کو ایک آزاد معالج نامزد کرنے کی اجازت دی گئی، جس کے لیے ڈاکٹر ندیم قریشی کا نام پیش کیا گیا اور اسے قبول کر لیا گیا۔
حکومت نے پی ٹی آئی کو یہ اختیار بھی دیا کہ وہ عمل کی نگرانی کیلئے خاندان کے ایک نمائندے کو نامزد کرے۔ ابتدا میں عمران خان کے بھانجے قاسم زمان کو نامزد کیا گیا، تاہم بعد میں علیمہ خان نے یہ نام واپس لے کر ڈاکٹر نوشیروان برکی کو شامل کرنے کی تجویز دی، جس پر حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ بطور نمائندہ کسی خاندانی ڈاکٹر کو شامل نہیں کیا جا سکتا۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے عمران خان کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی تجویز بھی دی، تاہم حکومت نے واضح کیا کہ اسپتال منتقلی کا فیصلہ صرف میڈیکل بورڈ کی سفارش پر ہوگا کیونکہ سپریم کورٹ کے حکم میں پیشگی داخلے کی ہدایت شامل نہیں۔ یہ مؤقف پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور دیگر قیادت تک پہنچایا گیا۔
بعد ازاں آزاد میڈیکل بورڈ، جس میں پی ٹی آئی کے نامزد ڈاکٹر بھی شامل تھے، اڈیالہ جیل پہنچا اور عمران خان کا معائنہ کیا۔ پی ٹی آئی کو نمائندہ بھیجنے کی دعوت دی گئی تھی، تاہم معائنے کے وقت کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔ معائنے کے بعد پی ٹی آئی چیئرمین اور اپوزیشن رہنماؤں کو ڈاکٹروں کی جانب سے نتائج سے آگاہ کیا گیا۔
میڈیکل بورڈ نے عمران خان کی آنکھوں میں کسی سنگین عارضے کی نشاندہی نہیں کی۔ رپورٹ کے مطابق ایک آنکھ کی بینائی 6/6 جبکہ دوسری کی 6/9 ریکارڈ کی گئی اور ڈاکٹروں نے ہلکے نمبر کا چشمہ استعمال کرنے کی سفارش کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میڈیکل بورڈ پی ٹی ا ئی کرنے کی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔