صدر و وزیراعظم کی نئے چینی سال پر مبارکباد، تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے نئے چینی سال پر عوام، حکومت اور چینی قیادت کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ گھوڑے کا سال توانائی، ترقی اور استقامت کی علامت ہے۔
اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ اس سال 2026 میں منائی جائے گی، پاک چین دوستی ہر موسم کی آزمودہ اور فولادی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ون چائنا پالیسی کی مکمل حمایت کی ہے جبکہ چین کی پاکستان کی اصولی حمایت، بشمول مسئلہ کشمیر قابلِ قدر ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور چیئرمین ماؤ ملاقات پاک چین تعلقات کی تاریخی علامت ہے، صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین عالمی امن و ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان، چین کے علاقائی و عالمی امور میں تعمیری کردار کو سراہتا ہے۔
آصف علی زرداری ںے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم میں چین کی قیادت علاقائی استحکام کے لیے اہم ہے، پاک چین دفاعی و سلامتی تعاون علاقائی امن کا ضامن ہے۔ سی پیک بیلٹ اینڈ روڈ کا انقلابی منصوبہ، ترقی و روابط کا ذریعہ ہے۔ سی پیک کے اگلے مرحلے میں پاکستان مشترکہ خوشحالی کیلئے پُرعزم ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ میرے گزشتہ سال چین کے 2 دورے، تعاون کے نئے مواقع کھولنے کا باعث بنے۔ پاکستان اور چین ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، گھوڑے کا سال پاک چین تعلقات کو تجارت، جدت اور عوامی روابط میں نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔
وزیراعظم کا پیغام
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نئے چینی سال 2026 گھوڑے کے سال کے موقع پر صدر شی جن پنگ، چین کے برادر عوام اور دنیا بھر میں موجود چینی کمیونٹی کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس ہینڈل‘‘ پر ایک پوسٹ میں وزیر اعظم نے کہا کہ گھوڑا توانائی، لچک، رفتار اور اقدار کی علامت ہے جو ہمارے مشترکہ سفر کا بھرپور عکاس ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور چین آہنی بھائی ہیں جو سدابہار تعاون پر مبنی اسٹریٹجک شراکت داری کے بندھن سے بندھے ہیں اور امن، ترقی اور علاقائی روابط کے حوالے سے مشترکہ وژن رکھتے ہیں۔
وزیراعظم نے دعا کی کہ یہ نیا سال ہماری پائیدار دوستی کو مزید مضبوط بنائے اور دونوں ملکوں کے عوام کی خوشحالی کیلئے ہمارے تعاون کو مزید مستحکم کرے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم چینی بہن بھائیوں کے ساتھ گھوڑے کے سال میں اچھی صحت، کامیابی اور ترقی کا سفر جاری رکھنے کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ پاک چین اور چین چین کے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔