غیر مشروط جنگ بندی کی امریکی تجویز سے متفق ہیں، زیلنسکی
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
تسنیم خبررساں ادارے بین الاقوامی گروپ کے مطابق یوکرین کے صدر نے جنیوا میں امن مذاکرات سے چند گھنٹے قبل اعلان کیا کہ ہم نے غیر مشروط اور طویل مدتی جنگ بندی کی امریکی تجویز سے اتفاق کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ہم غیر مشروط اور طویل مدتی جنگ بندی کی امریکی تجویز سے متفق ہیں۔ تسنیم خبررساں ادارے بین الاقوامی گروپ کے مطابق یوکرین کے صدر نے جنیوا میں امن مذاکرات سے چند گھنٹے قبل اعلان کیا کہ ہم نے غیر مشروط اور طویل مدتی جنگ بندی کی امریکی تجویز سے اتفاق کیا ہے۔ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی کے مذاکرات جنیوا میں ہونے والے ہیں جس میں امریکہ کے نمائندے بھی شامل ہیں۔
زیلنسکی کے مطابق، یوکرین توقع کرتا ہے کہ شراکت دار حقیقت پسندانہ شرائط پر روس پر امن کے لیے دباؤ ڈالنے کی ذمہ داری لیں گے۔ تاہم، یوکرین کے صدر نے کہا کہ روس کے حملے تیار ہو رہے ہیں اور اب ان میں ہتھیاروں کا مجموعہ شامل ہے جس کے لیے خصوصی دفاعی صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یوکرین کے تمام اتحادیوں کا شکریہ ادا کیا جو پابندیوں کے نئے اقدامات کی تیاری کر رہے ہیں کہ ہم یورپ، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر شراکت داروں سے فیصلہ کن فیصلوں کی توقع رکھتے ہیں، فیصلے مؤثر طریقے سے پہلے سے تیار کیے گئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جنگ بندی کی امریکی تجویز سے یوکرین کے صدر
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔