سیاست میں ایسا ہوتا ہے، برداشت نہیں کرسکتے تو مدر ٹریسا یا کرکٹ کے گاڈ بن جاتے: صدر زرداری کی پھر عمران پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
سیاست میں ایسا ہوتا ہے، برداشت نہیں کرسکتے تو مدر ٹریسا یا کرکٹ کے گاڈ بن جاتے: صدر زرداری کی پھر عمران پر تنقید WhatsAppFacebookTwitter 0 17 February, 2026 سب نیوز
وہاڑی (آئی پی ایس) صدر آصف علی زرداری نے ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ڈیڑھ سال میں ان کی آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں، سیاست میں تو ایسا ہوتا ہے، اگر برداشت نہیں کر سکتے تو کوئی آسان کام کر لو۔
وہاڑی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت آصف زرداری کا کہنا تھا کسانوں کی سہولت کی فراہمی وقت کا تقاضا ہے، زرعی شعبے کی بہتری سے ملک ترقی کرسکتا ہے، ملک میں ہر قسم کی نعمت موجود ہے، صرف تسلسل اور سوچ نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا قومی ترقی کا انحصار کسانوں کو مضبوط بنانے، جدید زرعی طریقوں کے فروغ میں ہے، پاکستان کے معاشی چیلنجز کا واحد پائیدار حل زراعت ہے۔
آصف علی زرداری کا کہنا تھا ججز کی تنخواہیں میں نے تین گنا کر دیں، میں ہر کام سمجھ اور سوچ کر کرتا ہوں۔
صدر مملکت نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اس کے ایک انچ پر بھی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، شہید بھٹو (ذوالفقار علی بھٹو) نے علاقائی خطرات کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا۔
ان کا کہنا تھا حکمرانی کے لیے لچک اور سیاسی بلوغت ضروری ہے، سیاسی تعاون ا تنہا پسندانہ رجحانات کو روکنے میں مدد دیتا ہے، مجھے معلوم ہے کہ بلوچستان کے عوام میں درد ہے لیکن ملک کے حالات پہلے سے بہتر ہیں، مکمل بہتر ہونےمیں وقت لگے گا، ہم سندھ اور بلوچستان تک محدود ہے، پنجاب میں ہماری حکومت نہیں ہے جبکہ کے پی کی اپنی الگ سوچ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کے پی حکومت مار کٹائی پر اتری ہوئی ہے، ملک ان کو بنانا نہیں، لوگوں کا کام کرنا نہیں، کے پی حکومت نے کوئی کام نہیں کیا۔
عمران خان کا نام لیے بغیر صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا ملک ایک سال رک جائے تو 10 سال پیچھے چلا جاتا ہے، یہ ملک چار سال رک گیا تھا، اس شخص کو روز بھاشن دینے کی عادت تھی، ہر ٹی وی پر اس کی تقریر آتی تھی تو باقی تقریریں بند ہوجاتی تھیں۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ ڈیڑھ سال نہیں ہوا کہ وہاں سے آواز آرہی ہے، بیٹا کہہ رہا ہےکہ اسے ملنے نہیں دیا جا رہا، میں نے 14 سال جیل کاٹی، اپنے بچوں سے جب ملا تو وہ مجھ سے قد میں بڑے تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تکالیف تو آپ نے برداشت کرنی ہیں، یہ تو زندگی کا حصہ ہے، اگر نہیں برداشت کرسکتے تو کوئی اور آسان کام کرو نا! یہ کام کرنا ضروری ہے! تم مدر ٹیرسا بن جاتے، کرکٹ کے گاڈ بن جاتے، ہر جگہ کرکٹ کلبس بناتے، تم ایک شعبے کو لے لیتے، اگر سیاست ہے تو اس میں ہر شعبہ آتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرموٹرویز اور سڑکوں کی بندش کے خلاف مسلم لیگ (ق) کی پشاور ہائیکورٹ میں رٹ دائر موٹرویز اور سڑکوں کی بندش کے خلاف مسلم لیگ (ق) کی پشاور ہائیکورٹ میں رٹ دائر پی این ایس خیبر کا جدہ اسلامک پورٹ میں تاریخی خیرسگالی دورہ بانی پی ٹی آئی کو ڈیل دی جا رہی ہے نہ ڈھیل، تمام باتیں قیاس آرائیاں ہیں: عطا تارڑ محسن نقوی نے ہمیشہ کوشش کی بانی پی ٹی آئی کو رہائی مل جائے: علی امین گنڈا پور آسٹرین چانسلر وزیراعظم شہباز شریف کی جرمن زبان میں کی گئی گفتگو پر حیران سری لنکن صدر کا پاکستانیوں کے لیے ویزا مشکلات فوری ختم کرنے کا حکمCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بن جاتے
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔