ہیلتھ سروسز اکیڈمی اور خواتین کے تحفظ کے معاملے میں افواہوں کی تردید، ایوانِ صدر کی وضاحت جاری
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
ایوانِ صدر کے میڈیا ونگ نے ہیلتھ سروسز اکیڈمی سے متعلق کارروائی اور کام کی جگہ پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ کے لیے وفاقی محتسب کے فیصلے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے۔
صدرِ پاکستان کے ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی محتسب کے حکم کے خلاف ایک درخواستِ نظرثانی ایوانِ صدر کو موصول ہوئی ہے۔ وفاقی محتسب ادارہ اصلاحات ایکٹ 2013 کی دفعہ 14(2) کے تحت ایسی درخواست دائر ہونے پر متعلقہ حکم پر عمل درآمد 60 دن کے لیے خودکار طور پر روک دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان کو ترک صدر کی جانب سے ترکیہ آنے کی آفر کی خبریں، حکومت نے تردید کر دی
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ قانونی کارروائی صرف قانون کے تقاضوں کے تحت عمل میں لائی جاتی ہے اور اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ متعلقہ فرد کو الزامات سے بری قرار دے دیا گیا یا حتمی طور پر ریلیف مل گیا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ مکمل سرکاری ریکارڈ متعلقہ فورم سے طلب کر لیا گیا ہے تاکہ اسے دیکھنے کے بعد معاملہ مجاز اتھارٹی کے سامنے قانون کے مطابق فیصلہ کے لیے پیش کیا جا سکے۔ صدرِ پاکستان آئین اور ملکی قوانین کے مطابق ہی اقدامات کرنے کے پابند ہیں۔
ایوانِ صدر نے عوام اور میڈیا سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے میں قیاس آرائی اور افواہوں سے گریز کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایوان صدر ہیلتھ سروسز اکیڈمی وضاحت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایوان صدر ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے لیے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔