مشرقِ وسطیٰ میں غیر معمولی عسکری نقل و حرکت — پسِ پردہ کیا چل رہا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
16 فروری کو United States Air Force کی جانب سے ایک بڑا فضائی آپریشن کیا گیا جس کے تحت مزید 18 جدید لڑاکا طیارے مشرقِ وسطیٰ پہنچائے گئے، جبکہ درجنوں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی تعینات کیے گئے۔ یوں خطے میں امریکی فضائی طاقت غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق پہلے سے موجود بحری اور فضائی اثاثوں کے ساتھ اب خطے میں امریکی جنگی صلاحیت نمایاں طور پر مجتمع ہو چکی ہے۔ United States Navy کے جنگی جہاز، آبدوزیں اور ڈسٹرائرز بھی خطے میں سرگرم ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی عسکری تیاری عام مشقوں سے کہیں بڑھ کر دکھائی دیتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر ہدف کیا ہے؟
خطے کی کشیدہ صورتحال، خصوصاً ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ، اس غیر معمولی عسکری سرگرمی کو مزید معنی خیز بنا رہی ہے۔ امریکی سیاسی قیادت کے بیانات بھی اس تناظر میں خاصے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
امریکہ کے بااثر سینیٹر لنڈسے گراہم اچانک تل ابیب پہنچے جہاں انہوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں خطے کی سکیورٹی صورتحال اور ایران سے متعلق حکمتِ عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بعض بیانات میں ایرانی حکومت کے مستقبل سے متعلق سخت مؤقف بھی سامنے آیا، جس نے سفارتی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز کر دی ہیں۔
اسی دوران نریندر مودی کا آئندہ دنوں میں اسرائیل کا سرکاری دورہ بھی طے ہے، جس میں بھارت کی جانب سے اسرائیل کو سفارتی اور تزویراتی حمایت کے اشارے دیے جا رہے ہیں۔ یہ پیش رفت خطے میں ایک نئے سفارتی بلاک کی تشکیل کا عندیہ بھی سمجھی جا رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق اگر امریکی افواج کی یہ تعیناتی محض دفاعی نوعیت کی ہوتی تو شاید اس قدر توجہ حاصل نہ کرتی، مگر بحری بیڑوں، فضائی اثاثوں اور سیاسی بیانات کی ہم آہنگی کسی بڑے جیو اسٹریٹجک فیصلے کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔
کیا یہ دباؤ کی حکمتِ عملی ہے؟
کیا کسی ممکنہ کارروائی کی تیاری ہو رہی ہے؟
یا پھر یہ سب محض طاقت کا مظاہرہ ہے؟
فی الحال عالمی نظریں امریکہ کی آئندہ حکمتِ عملی اور مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی بساط پر جمی ہوئی ہیں۔ آنے والے ہفتے طے کریں گے کہ یہ عسکری اجتماع صرف پیغام تھا یا کسی بڑے باب کا پیش خیمہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رہی ہے
پڑھیں:
ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔
ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایران جنگ پر سوالاتکانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثراتایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقفمارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ