نئی فلکیاتی تحقیق نے دنیا کے خاتمے کی ’لمبی ڈیٹ‘ دے دی
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
ایک نئی فلکیاتی تحقیق کے مطابق کائنات ممکنہ طور پر تقریباً 20 ارب سال بعد ایک بڑے سکڑاؤ یعنی ‘بگ کرنچ’ کا شکار ہو سکتی ہے۔
یہ تحقیق کارنیل یونیورسٹی کے فزکس کے ماہر ہنری ٹائی کی قیادت میں کی گئی جس میں ڈارک انرجی سروے کے بڑے ڈیٹا شامل تھے۔ محققین کے مطابق، ممکن ہے کہ ڈارک انرجی مستقل نہ ہو۔
تحقیق اور طریقہ کارمحققین نے ڈارک انرجی سروے اور ڈارک انرجی اسپیکٹروسکوپک انسٹرومنٹ کے ڈیٹا سے ایک ماڈل تیار کیا۔ اس تھیوری میں ایک ہلکی ذرات ایکسائیون اور منفی کاسمولوجیکل کانسٹینٹ شامل کیا گیا ہے۔
نیا فریم ورک اس امکان کو پیش کرتا ہے کہ ڈارک انرجی وقت کے ساتھ کم ہو سکتی ہے جبکہ روایتی ماڈل اسے مستقل قوت مانتا ہے۔
کائنات کے مستقبل کی پیشنگوئیموجودہ حسابات کے مطابق کائنات تقریباً 11 ارب سال تک پھیلاؤ کا تجربہ کرے گی۔
اس کے بعد یہ عمل رک جائے گا اور معکوس ہونا شروع ہو گا۔
آخرکار بگ کرنچ تقریباً 33 ارب سال بعد واقع ہوگا یعنی بگ بینگ کے بعد کائنات کا حتمی سکڑاؤ۔
محتاط رہنے کی ضرورتمحققین نے واضح کیا کہ یہ پیشگوئیاں مکمل طور پر درست ہو سکتی ہیں یا نہیں اس کا درست اندازہ نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ موجودہ ڈارک انرجی کے ڈیٹا پر یہ نتائج محتاط انداز میں دیکھے جانے چاہییں۔ یہ خیال اس نظریے کے مخالف ہے کہ کائنات مستقل طور پر پھیلتی رہے گی۔
آئندہ تحقیقاتمستقبل میں یورپی اسپیس ایجنسی کے یُوکلِڈ مشن، ناسا کے اسفیریکس پروجیکٹ اور ویرا سی۔ روبن آبزرویٹری بہتر ڈارک انرجی کی پیمائش فراہم کریں گے جس سے اس نظریے کی تصدیق یا تردید ممکن ہو سکے گی۔
نوٹ: واضح رہے کہ یہ خبر انگریزی میڈیا سے نئی تحقیق سے آپ کو آگاہ کرنے کے لیے پبلش کی جارہی ہے تاہم اس کی ایکوریسی کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ یہاں ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ سائنسدانوں کے ہی مطابق سورج (جو زمین پر زندگی کا سبب ہے) 5 ارب سال کے بعد ختم ہوجائے گا۔ مذکورہ تحقیق میں خاتمے کی تاریخ 20 ارب سال دی گئی ہے۔
کائنات کے حوالے سے مختلف نظریاتکائنات کے بارے میں سائنسدان مختلف نظریات پیش کرتے ہیں کہ مستقبل میں یہ کس طرح بدل سکتی ہے۔
بگ بینگسب سے مشہور نظریہ بگ بینگ ہے جو یہ کہتا ہے کہ کائنات تقریباً 13.
کائنات کے اختتام کے لیے تین بڑے نظریات پیش کیے گئے ہیں
بگ کرنچبگ کرنچ نظریے کے مطابق اگر کائنات کی توسیع رک جائے اور کشش ثقل غالب آ جائے تو کائنات دوبارہ سکڑنے لگے گی۔ آخرکار سب ستارے، سیارے اور مادہ ایک نقطے میں جمع ہو جائیں گے یعنی کائنات مکمل طور پر سکڑ جائے گی۔
بگ فریز یا ہیٹ ڈیتھ والے نظریے میں کہا جاتا ہے کہ کائنات ہمیشہ کے لیے پھیلتی رہے گی۔ ستارے ختم ہو جائیں گے، توانائی کم ہو جائے گی اور کائنات انتہائی سرد اور خالی ہو جائے گی۔ یہاں کوئی بڑا سکڑاؤ نہیں ہوگا بلکہ کائنات کی زندگی آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گی۔
بگ رِپبگ رِپ نظریے میں خیال ہے کہ اگر ڈارک انرجی مسلسل بڑھتی رہی تو کائنات کی توسیع اتنی تیز ہو جائے گی کہ کہکشائیں، ستارے، سیارے اور بالآخر ایٹم تک پھٹ جائیں گے، یعنی کائنات مکمل طور پر ٹوٹ جائے گی۔
ان تمام نظریات میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب اربوں یا کھربوں سالوں کے بعد ممکن ہو سکتے ہیں یعنی ابھی کے لیے یہ سب انسانوں کے لیے بہت دور کی کہانی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بگ کرنچ دنیا کا خاتمہ کائنات کا خاتمہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دنیا کا خاتمہ کائنات کا خاتمہ ڈارک انرجی ہو جائے گی کائنات کے کہ کائنات کے مطابق ارب سال کے بعد کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔