چینی منصوبوں کو نشانہ بنانے والا نیٹ ورک بےنقاب، شانگلہ کبل گرام میں 3 دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
پشاور:
چینی منصوبوں اور شاہراہِ ریشم سے منسلک اسٹرٹیجک روڈ کوریڈور کو نشانہ بنانے والے فتنۃ الخوارج کے منظم نیٹ ورک کے خلاف کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ، ایلیٹ فورس اور ضلعی پولیس شانگلہ نے کبل گرام کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں انٹیلیجنس بیسڈ ٹارگٹڈ جوائنٹ آپریشن کرتے ہوئے تین دہشت گرد ہلاک کر دیے۔
پولیس کے مطابق خفیہ اطلاعات تھیں کہ یہ گروہ ماضی میں چینی باشندوں پر ہونے والے VBIED حملوں میں بھی ملوث رہا ہے اور شاہراہِ ریشم کے قریب ہونے کے باعث چینی منصوبوں اور اہم قومی تنصیبات کے لیے مستقل خطرہ بنا ہوا تھا۔
اسی بنیاد پر سی ٹی ڈی افسران کی قیادت میں کبل گرام کے مختلف علاقوں میں کارروائی کی گئی جہاں دہشت گرد قدرتی غاروں میں پناہ لیے ہوئے تھے اور انہیں مقامی سہولت کاری بھی میسر تھی۔
پولیس جب غاروں میں موجود ٹھکانوں کی جانب بڑھی تو دہشت گردوں سے آمنا سامنا ہوا جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، اس دوران تین دہشت گرد مارے گئے جن میں نور اسلام عرف سلمان عرف خوگ بچہ ولد زمان ولی ساکن کبل گرام شانگلہ فتنۃ الخوارج کا سرغنہ تھا جس کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر تھی، جبکہ ایک دہشت گرد نامعلوم ہے جس کی شناخت کا عمل جاری ہے اور تیسرے دہشت گرد نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
مزید پڑھیںباجوڑ: سیکیورٹی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ، 13 خوارج ہلاک، دھماکے سے 11 اہلکار شہید
پولیس کے مطابق باقی شرپسند ایک ڈھلوان کے نیچے پناہ لے کر فرار کی کوشش کرتے رہے تاہم جب سیکیورٹی فورسز نے گرفتاری کے لیے پیش قدمی کی تو دہشت گردوں کے ساتھیوں نے آر پی جی اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کر کے اپنے ساتھیوں کو نکالنے کی کوشش کی مگر پولیس اور ایلیٹ فورس نے بھرپور جوابی کارروائی سے حملہ پسپا کر دیا۔
اس دوران فرض کی راہ میں بہادری سے لڑتے ہوئے پولیس کے تین جوان جامِ شہادت نوش کر گئے جن میں ایل ایچ سی مقبول احمد نمبر 438، ایل ایچ سی فدا حسین اور ایل ایچ سی سعید الرحمان شامل ہیں جبکہ ایلیٹ فورس کا ایک جوان زخمی ہوا جو زیر علاج ہے۔
پولیس کے مطابق آپریشن کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن اور نگرانی بدستور جاری ہے جبکہ انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے شہید اور زخمی جوانوں کی ہمت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کے پی پولیس نے کبھی پیٹھ نہیں دکھائی اور قوم کے لیے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔