data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)منیجنگ ڈائریکٹر سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ طارق علی نظامانی کی زیر صدارت رمضان المبارک کے سلسلے میں انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس منعقد کیا گیا۔تمام اضلاع کے انچارجز نے بریفنگ میں بتایا کہ رمضان المبارک کے سلسلے میں انتظامات مکمل ہیں، سینیٹری ورکرز تین شفٹو ں میں تعینات کئے جائیں گے، مساجد، امام بارگاہ، افطار، تراویح، سحری پوائنٹس اور بچت بازارکے اطراف اضافی عملہ لگانے کے لئے ٹیمیں بنا دی گئی ہیں۔پہلی شفٹ صبح 6 بجے سے شروع ہوگی اور تیسری شفٹ اگلے دن صبح 5 بجے تک اپنے فرائض انجام دیں گی۔ اجلاس میں سیکریٹری نوروز عباسی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر آپریشن احسن رضا، ایگزیکٹو ڈائریکٹر غلام عباس میمن کے علاوہ تمام اضلاع کے ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز اور نجی کمپنیز کے عہدیداران وافسران نے شرکت کی اور تفصیلات سے آگاہ کیا۔ نجی کمپنیز کے عہدیداران نے رمضان کے انتظامات کے سلسلے میں بریفنگ میں بتایا کہ بالخصوص جن اضلاع میں فلاحی ادارے افطاراور سحری دسترخوان لگاتے ہیں،وہاں فوڈاسٹریٹ پر اضافی عملہ موجود رہے گاجبکہ ہر اضلاع میں ضرورت کے مطابق اضافی عملہ تعینات کیا جائے گا۔ مساجد، امام بارگاہوں اور تراویح پوائنٹس کے اطراف اور راستوں کی صفائی اور چونے کا چھڑکاؤ یقینی بنایا جائے گی۔بالخصوص 15 رمضان کے بعد مارکیٹ، بچت بازار کے اطراف صفائی کے لئے مزید انتظامات بہتر بنائے جائیں گے۔ایم ڈی سالڈ ویسٹ نے کہا کہ رمضان مقدس مہینہ ہے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے تمام عملہ متحرک رہے جہاں عملے، ڈسٹ بن اور مشینری کی کمی ہے اسے فوری پورا کیا جائے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لئے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس