حماس نے اسرائیل کا 60 روز میں غیر مسلح ہونے کا الٹی میٹم مسترد کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیل کی جانب سے 60 روز میں غیر مسلح ہونے کے الٹی میٹم کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
تنظیم کے سینئر رہنما نے واضح کیا کہ ایسے کسی مطالبے کو قبول نہیں کیا جا سکتا اور یہ بیانات جاری مذاکرات کے برعکس ہیں۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کا کہنا ہے کہ جب تک غزہ پر اسرائیلی قبضہ برقرار ہے، اسلحہ ترک کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تنظیم نے اسرائیلی دھمکیوں کو دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ الٹی میٹم اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے قریبی معاون کی جانب سے دیا گیا تھا، جس میں حماس سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ 60 روز کے اندر اپنے ہتھیار ڈال دے۔ حماس نے اس مطالبے کو غیر حقیقت پسندانہ اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔