نیند کا بے ترتیب شیڈول وزن کم نہ ہونے کی بڑی وجہ قرار
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اگر آپ سخت ڈائیٹ پلان پر عمل کر رہے ہیں، روزانہ ورزش بھی کرتے ہیں مگر وزن میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھ رہے ہیں تو مسئلہ شاید آپ کی نیند کا معمول ہو۔
ماہرین صحت کے مطابق رات دیر تک جاگنے کی عادت وزن گھٹانے کی کوششوں کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے، چاہے خوراک کتنی ہی متوازن کیوں نہ ہو۔
تازہ تحقیقی رپورٹس بتاتی ہیں کہ وزن میں کمی کا عمل صرف کیلوریز کم کرنے یا جسمانی سرگرمی بڑھانے تک محدود نہیں بلکہ نیند کا وقت اور دورانیہ بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
انسانی جسم ایک قدرتی حیاتیاتی گھڑی کے تحت کام کرتا ہے جو دن اور رات کے مخصوص اوقات سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔ جب یہ ترتیب بگڑتی ہے تو جسمانی نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔
ڈاکٹرز کے مطابق رات ساڑھے 10 یا 11 بجے کے بعد جاگتے رہنا جسم کو تناؤ کی کیفیت میں لے جاتا ہے۔ اس دوران کورٹیسول نامی ہارمون کی سطح بڑھ جاتی ہے، جو عموماً دباؤ کے حالات میں متحرک ہوتا ہے۔ اگر یہ ہارمون رات کے وقت زیادہ مقدار میں خارج ہو تو جسم میں چربی جمع ہونے کا رجحان بڑھ سکتا ہے جبکہ چربی جلنے کا عمل سست پڑ جاتا ہے۔
مزید برآں دیر سے سونے والے افراد میں میٹابولزم کی رفتار متاثر ہوتی ہے اور نظامِ ہضم بھی اپنی قدرتی رفتار سے کام نہیں کر پاتا۔ نتیجتاً جسم توانائی کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے بجائے ذخیرہ کرنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض افراد تمام احتیاطی تدابیر کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پاتے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ بروقت سونے اور کم از کم 7 سے 8 گھنٹے کی معیاری نیند کو روزمرہ معمول کا حصہ بنایا جائے۔ مناسب نیند نہ صرف ذہنی سکون اور ہارمونل توازن برقرار رکھتی ہے بلکہ وزن میں کمی کے سفر کو بھی آسان بناتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ