لکی مروت میں بڑی تباہی ٹل گئی، دہشت گردی کا منصوبہ ناکام
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
لکی مروت میں پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔
پولیس کے مطابق میانوالی شاہراہ پر نالہ ُپل سے منسلک 40 کلو بارودی مواد پر مشتمل ریموٹ کنٹرول بم ناکارہ بنا دیا گیا۔ کارروائی پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے مشترکہ طور پر کی۔ حکام کے مطابق شر پسندوں نے بم عوام کو نشانہ بنانے کے لیے انتہائی اہم جگہ نصب کیا تھا۔ اس مقام کے بالمقابل اسکولز اور سرحد انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ واقع ہیں۔
شرپسندوں کی منصوبہ بندی ناکام بنانے پر آئی جی پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے لکی مروت پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کو شاباش دی جب کہ اہل علاقہ نے بھی پولیس کو خراج تحسین پیش کیا۔
آئی جی کے پی کے ذوالفقار حمید نے کہا کہ فرض کی راہ میں جان ہتھیلی پر رکھ کر معصوموں کی جان بچانے والے اصل ہیروز ہیں۔ عوام اپنے درمیان چھپی کالی بھیڑوں کی نشاندہی کریں۔ دہشتگردوں کا مقصد صرف خوف و ہراس اور انتشار پھیلانا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈی پی او لکی مروت نذیر خان کو خفیہ اطلاع ملی کہ نالہ پل لکی میانوالی روڈ پر شر پسند عناصر نے بم نصب کر رکھا ہے جس پر تھانہ سٹی پولیس لکی مروت نے پہنچ کر علاقے کی ناکابندی کی گئی۔ واضح رہے کہ مذکورہ علاقے میں اسکولز اور سرحد انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ واقع ہیں۔
بعد ازاں پولیس اور بم ڈسپوزل سکواڈ نے انتہائی حکمت عملی اور جدید آلات کے ذریعے دیسی ساختہ آئی سی ڈی ریموٹ کنٹرول بم ناکارہ بنا دیا۔ حکام کے مطابق بم ایک ڈرم میں بنایا گیا تھا جس میں 40 کلو سے زائد بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ 2 ڈیٹونیٹر، 12 والٹ بیٹری اور سرکٹ بھی برآمد ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پولیس اور بم ڈسپوزل لکی مروت کے مطابق
پڑھیں:
گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
گھوٹکی میں ڈہرکی سے سابق رکن صوبائی اسمبلی شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا گیا۔
ایس ایس پی گھوٹکی انور کھیتران کا کہنا ہے کہ جہانگیر شر کو نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اغوا کیا تھا۔ واقعے کی اطلاع پر پولیس اور قبیلے لوگوں نے اغوا کاروں کا تعاقب کیا۔
انہوں نے بتایا کہ بچے کو پولیس نے مقابلے کے بعد بازیاب کروا لیا تاہم اس دوران ملزمان فرار ہوگئے۔
ایس ایس پی گھوٹی کا کہنا تھا کہ اغواکاروں کی نشاندہی ہوگئی ہے، ملزمان کا تعلق بھی شر قبیلے سے ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تعاقب جاری ہے۔