افطاری کیلیے اداکارہ صبا فیصل کس وقت فروٹ چاٹ بناتی ہیں؛ مداح حیران رہ گئے
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
معروف سینئر اداکارہ صبا فیصل نے رمضان سے متعلق ایک پروگرام میں اپنے معمولات پر کھل کر گفتگو کی تاہم اس پر بھی ایک نئی بحث چھڑ گئی۔
ماہ رمضان میں سحر و افطار کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے اور یہ شعبہ خواتین کا بھی پسندیدہ شعبہ ہے۔ جس میں شوبز خواتین بھی کسی سے کم نہیں۔
صبا فیصل نے بتایا کہ وہ رمضان میں فروٹ چاٹ دوپہر تقریباً 12 بجے ہی تیار کرلیتی ہیں اور اس میں چاٹ مصالحہ بھی اسی وقت شامل کر دیتی ہیں کیونکہ افطار شام میں ہوتا ہے۔
اداکارہ صبا فیصل کے بقول یہ ان کا ذاتی اور آزمودہ طریقہ ہے جس پر وہ برسوں سے عمل کر رہی ہیں۔
تاہم اداکارہ کا یہ بیان سوشل میڈیا صارفین کو ہضم نہ ہوسکا۔ کچھ خواتین نے تعجب اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنی جلدی تیار کی گئی فروٹ چاٹ شام تک خراب یا سیاہ ہو سکتی ہے۔
ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ پھر تو پھل شام تک کالے ہو جاتے ہوں گے جبکہ ایک اور تبصرہ تھا کہ یہ تو بہت قدیم طریقہ لگتا ہے۔
البتہ کئی صارفین کا کہنا تھا کہ ہر شخص کا اپنا طریقہ ہوتا ہے اور اگر کوئی برسوں سے کسی معمول پر عمل کر رہا ہو تو اسے غیر ضروری تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔